پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے ہمارے ہاتھ پر تھو ک دیا،پاکستان کے آرمی ہیڈ کوارٹر میں کیا ہوا؟ افغان صدر اشرف غنی نے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 22  ستمبر‬‮  2017 |

کابل/نیویارک (آئی این پی)افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے افغان جنگ کا ذمہ دار طالبان اور پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے کئی مرتبہ پاکستان کی طرف ہاتھ بڑھایا اور انھوں نے اس پر تھوک دیا ،افغانستان پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کا موقع ڈھونڈ رہا ہے،صدر بننے کے ہفتوں بعد پاکستان گیا تھا اور ایک تفصیلی بات چیت کیلئے پاکستان آرمی کے ہیڈکوارٹر بھی گیا،آپ کیا کرنا پسند کریں گے جب ملک کے

دارالحکومت پر حملہ کردیا جائے اور ہر ایک شہری او رمسجد پر حملہ کیا جاتا ہے تو کیا ہم اپنے ہاتھ پیچھے باندھ کر سرنڈر کردیں؟۔جمعہ کا افغان ٹی وی ’’طلوع نیوز‘‘ کے مطابق نیویارک میں کونسل آن فارن ریلیشنز میں ایک مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی کا کہنا تھاکہ طالبان اور پاکستان افغانستان میں جنگ اور عدم استحکام کے ذمہ دار ہیں۔انکا کہنا تھاکہ وہ کئی بار پاکستان گئے لیکن پڑوسی ملک کی طرف سے انکا امن کا مطالبہ قبول نہیں کیا گیا۔ میں صدر بننے کے ہفتوں بعد پاکستان گیا تھا اور ایک تفصیلی بات چیت کیلئے پاکستان آرمی کے ہیڈکوارٹر بھی گیا۔ میں نے پاکستان کی طرف ہاتھ بڑھایا اور انھوں نے اس پر تھوک دیا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں تسخیر کرلیں گے ۔افغان صدر نے کہاکہ افغانستان پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کا موقع ڈھونڈ رہا ہے ۔آپ کیا کرنا پسند کریں گے جب ملک کے دارالحکومت پر حملہ کردیا جائے اور ہر ایک شہری او رمسجد پر حملہ کیا جاتا ہے تو کیا ہم اپنے ہاتھ پیچھے باندھ کر سرنڈر کردیں؟ہم اس جنگ کے ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ طالبان ذمہ دار ہیں۔ہمیں سمجھنا چاہیے کہ کون فوجی طاقت کے استعمال کو فروغ دینے کا ذمہ دار ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…