پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

تر ک صدرکی’’اسلامی دہشتگردی‘‘کے لفظ پر سخت الفاظ میں تنقید ہم نے تو آج تک مسیحی،یہودی یا بدھ مت دہشت گردی کا نام نہیں سنا تو آج اسلام کو کیوں دہشتگردی سے منسلک کیا جا رہا ہے،برائے مہربانی “اسلامی دہشتگردی کے لفظ کا استعمال بند کیا جائے،کیونکہ یہ حق تلفی ہے، رجب طیب اردگان

datetime 22  ستمبر‬‮  2017 |

نیویارک (آئی این پی) تر ک صدر رجب طیب اردگان نے ’’اسلامی دہشتگردی‘‘کے لفظ پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے تو آج تک مسیحی،یہودی یا بدھ مت دہشت گردی کا نام نہیں سنا تو آج اسلام کو کیوں دہشتگردی سے منسلک کیا جا رہا ہے۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق ترک صدر نے نیو یارک میں مسلم انجمنوں کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے تو آج تک مسیحی،

یہودی یا بدھ مت دہشت گردی کا نام نہیں سنا تو آج اسلام کو کیوں دہشتگردی سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ انھوںنے کہاکہ روہنگیا مسلمان اس وقت انتہائی اضطراب بھری زندگی گزار رہے ہیں جن کی نسل کشی کھلم کھلا ہو رہی ہے جنہیں بدھ آبادی قتل کر رہی ہے لیکن ہم نے اسے بدھ مت دہشت گردی نہیں کہا ۔ میں بدھ متوں کو دنیا کی اعتدال پسند فرقہ ماننے والوں سے کہتا ہوں کہ وہ اب” اسلامی دہشتگردی “کے لفظ کا استعمال بند کر دیں کیونکہ یہ حق تلفی ہے ۔ انہوں نے میکسیکو کے حالیہ زلزلے کی مثال دیتیہوئے کہا کہ ترک ہلال احمر اس وقت میکسیکو میں مدد کر رہی ہے کیونکہ مسلم اخلاقیات و تعلیمات ، امتیازانہ برتاو سے بالا تر ہو کر خدمت خلق کا درس دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ اس وقت بعض ممالک میں اگر ایک شخص بھی مارا جاتا ہے تو اسے سانحہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ 10 لاکھ افراد کی موت پر صرف زبانی جمع خرچ پر ہی اکتفا ہوتا ہے، مگر دین اسلام کی روشنی میں ایک معصوم انسان کی موت انسانیت کی موت کے مترادف ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…