دوحہ(این این آئی) قطر کی نیشنل ہیومن رائٹس کمیٹی( قومی کمیٹی برائے انسانی حقوق )نے بتایاہے کہ پاکستان سمیت کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے 490 غیر ملکی ملازم ایسے ہیں جو رواں سال پانچ جون کو شروع ہونے والے خلیجی بحران کے آغاز سے اب تک سعودی عرب میں پھنسے ہیں،میڈیارپورٹص کے مطابق قطر کی قومی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں کہاکہ پاکستان سمیت کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے 490 غیر ملکی ملازم ایسے ہیں جو رواں سال پانچ جون کو شروع ہونے والے خلیجی بحران کے آغاز سے اب تک سعودی عرب میں پھنسے ہیں۔
ان افراد میں بڑی تعداد پاکستان، انڈیا، نیپال اور سوڈان سے تعلق رکھتی ہے۔قطر کی قومی کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بین الاقوامی تعاون ڈویڑن کے سربراہ سعد سلطان آل عبداللہ نے بتایا کہ سعودی عرب میں پھنسے ایسے افراد کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ 490 وہ افراد ہیں جن کے بارے میں گذشتہ ہفتے سے پہلے تک اکٹھے کیے جانے والے اعداد و شمار کی مدد سے سراغ لگایا جا سکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قطر سے قطع تعلق کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی تینوں خلیجی ممالک نے اپنے ہاں مقیم قطری باشندوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا جبکہ وہاں موجود ان کی جائیدادیں اور اثاثے منجمد کر دیے گئے تھے۔سعد سلطان ال عبداللہ کے مطابق تین خلیجی ممالک کی جانب سے قطری شہریوں کے بنکوں میں موجود اثاثے منجمد کرنے اور پیسوں کی ترسیل پر پابندی کے باعث قطری مالکان کی طرف سے سعودی عرب میں پھنسے ان ملازمین کو گذشتہ دو ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی بھی ممکن نہیں ہو پائی۔ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کس حال میں ہوں گے کیونکہ نہ تو ہمارے پاس اور نہ ہی ان ملازمین کے قطری مالکان کے پاس ان کے رابطے کا کوئی ذریعہ باقی رہا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ بحران میں گھرے ان تارکینِ وطن ملازمین کی مدد اور ان کی بازیابی کے لیے سعودی عرب میں قائم ان کے متعلقہ سفارتخانوں کو خط لکھ دیے گئے ہیں۔ آل عبداللہ کے مطابق سعودی حکام براہِ راست قطر کی نیشنل ہیومن رائٹس کمیٹی کی طرف سے کیے جانے والے رابطے کا جواب نہیں دیں گے۔



















































