بدھ‬‮ ، 04 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

روہنگیا مسلمانوں پر مظالم جو کام طیب اردگان بھی نہ کرسکے وہ کام کینیڈا کے وزیر اعظم نے کرڈالا۔۔ایسا کیا کیا کہ برما کی حکومت بھی چیخ اٹھی‎

datetime 9  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردگان کے بعد اب کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو بھی روہنگیا مسلمانوں کے لیے میدان میں آ گئے ہیں۔ ’دی گلوب اینڈ میل‘ کی رپورٹ کے مطابق جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ ”ہمیں میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر سخت تحفظات ہیں۔ جون میں میانمار کی لیڈر آنگ سان سوچی سے اوٹاوا میں میری ملاقات ہوئی تھی اور میں نے ان کے سامنے روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار کا مسئلہ اٹھایا تھا۔

ان مسلمانوں کی ناگفتہ بہ صورتحال پر کینڈا کے شہری دل گرفتہ ہیں اور اس مسئلے کا فوری حل چاہتے ہیں۔“جسٹن ٹروڈوکا مزیدکہنا تھا کہ ”ہم میانمار کی حکومت اور تمام حکام پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ جان بچا کر میانمار سے فرار ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کو اس صورتحال سے نکالنے کے لیے پختہ اقدامات کریں۔ اگرچہ ہمیں میانمار کی صورتحال پر سخت تحفظات ہیں لیکن میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا کہ آنگ سان سوچی کی کینیڈا کی اعزازی شہریت ختم کی جا ئے گی یا نہیں۔“ دوسری طرف کینیڈا کی وزیرخارجہ کرسٹیا فری لینڈ کا کہنا ہے کہ ”جس طرح روہنگیا مسلمانوں کے میانمار کا شہری ہونے سے انکار کیا جا رہا ہے اور انہیں ملک سے نکل جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے اس سے آنگ سان سوچی کاجمہوری ویژن کمزور ہو رہا ہے جس کے لیے انہوں نے تمام عمر جنگ لڑی ہے۔کینیڈا کی حکومت میانمار کے تمام حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ تمام شہریوں کو جاری پرتشدد واقعات سے محفوظ رکھنے کے لیے مل کر کام کریں۔“جبکہ دوسری جانب میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی مبینہ نسل کشی کے خلاف نیویارک میں اقوام متحدہ کی عمارت اور واشنگٹن میں برما کے سفارتخانے کے باہر احتجاجی مظاہرے کئے گئے، جس میں مظاہرین نے نسل کشی بند کرنے اور اسے دہشت گردی قرار دینے کا مطالبہ کیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق میانمار کی حکومت کے خلاف ان مظاہروں

کا اہتمام امریکی مسلمانوں کی مختلف تنظیموں نے کیا تھا، جنہوں نے جمعہ کو بھی یہ مظاہرے جاری رکھے ،واشنگٹن میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ‘کیئر انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر نہاد اعواد نے الزام عائد کیا کہ برما کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی ضمیر برما کو اس نسل کشی سے روکے۔نہاد اعواد نے امریکی شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ، منتخب نمائندوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کریں اور ان سے مطالبہ کریں

کہ برما حکومت کے خلاف کارروائی کی جائے۔انھوں نے میانمار حکومت سے مطالبہ کیا کہ روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کرے اور انھیں مساوی شہری حقوق دے۔مظاہرین نسل کشی بند کرو، نسل کشی دہشت گردی ہے، اورہمیں کیا چاہیے انصاف، انصاف کے نعرے لگارہے تھے۔انھوں نے ڈیرھ سے دو گھنٹے تک برما کے سفارتخانے کے اطراف میں مظاہرہ جاری رکھا۔

 

 



کالم



سٹوڈنٹ لسٹ


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

Mind The Gape

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…