جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سرحد پر کشیدگی ٗچین نے 300 بھارتی یاتریوں کو روک دیا

datetime 29  جون‬‮  2017 |

بیجنگ/نئی دہلی (این این آئی)چین کی وزارت خارجہ نے کہاہے کہ بھارت کے سرحدی محافظوں کی جانب سے تبت اور سِکم کے درمیانی علاقے میں دراندازی کے بعد سکیورٹی خدشات کے باعث انڈیا سے آنے والے 300 ہندو اور بدھ مت یاتریوں کو روک دیا گیا ہے۔چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ آئندہ چند ہفتوں میں ہندو اور بدھ مت یاتری کی آمد پر پابندی کے حوالے سے سفارتی چینل کے

ذریعے انڈیا کو مطلع کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب انڈیا کی جانب سے چین کی جانب سے لگائے جانے والے الزام کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا گیا ہے تاہم پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق دہلی میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سِکم کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ چین نے انڈیا کو مطلع کر دیا کہ بیجنگ دہلی کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے حق میں ہے تاہم اپنی خودمختاری اور فوائد کی حفاظت کیلئے پرعزم ہے۔ایک سوال کے جواب میں لو کانگ نے کہا کہ سِکم کے علاقے میں چین اور انڈیا کی سرحد کی حدبندی کا تعین ہو چکا ہے۔برطانیہ اور چین کے درمیان سکم اور تبت سے متعلق 1890 کے معاہدے کی پہلی شق میں کہا گیا کہ سکم اور تبت کی سرحد اس سلسلہ ہائے کوہ کا بلند ترین مقام ہوگا جو کہ سکم تیستا میں داخل ہونے والے دریاؤں اور اس کے ذیلی ندی نالوں کو تبتی موچو اور شمال کی جانب دیگر تبتی دریاؤں میں شامل ہونے والے پانی سے الگ کریگی ٗیہ سرحدی لکیر بھوٹان کی سرحد پر گپموچی نامی پہاڑ سے شروع ہوگی اور دریاؤں کیساتھ ساتھ اس مقام پر ختم ہوگی جہاں سے نیپال کی حدود کا آغاز ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ چین اور انڈیا کی حکومتیں سِکم کی سرحدی حدبندی کو تسلیم کر چکی

ہیں ٗ اس بات کی تصدیق انڈین رہنما، انڈیا کے سرکاری دستاویزات اور انڈیا کا خصوصی وفد جو سِکم اور تبت کی سرحدی حدبندی کے لیے چین کے وفد سے ملا تھا۔انھوں نے کہا کہ انڈیا کا اس کنونشن اور دستاویز کا احترام کرنا بین الاقوامی ذمہ داری ہے جس سے بچا نہیں جا سکتا۔انڈیا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق چین کی جانب سے دراندازی کا الزام لگانے کے بعد اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سِکم کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔اس اجلاس میں فوج، انڈو تبتن سرحدی پولیس اور وزارت داخلہ کے نمائندگان نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…