واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈٹرمپ کا سفری پابندیوں کا حکم نامہ جزوی طور پر بحال کر دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آخرکار کامیابی مل ہی گئی، امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کا 6مسلم ممالک پر پابندی کا صدارتی حکم نامہ جزوی طور پر بحال کردیا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے ججوں کا کہنا ہے کہ وہ رواں سال اکتوبر میں اس بات کا دوبارہ جائزہ لیں گے کہ آیا صدر ٹرمپ کی اس پالیسی کو جاری رہنا چاہیے یا نہیں۔تاہم فیصلے کے مطابق ایگزیکٹو آرڈر ان غیر ملکیوں پر لاگو نہیں ہوگا جن کا کسی بھی امریکی شخص یا ادارے سے حقیقی تعلق ہے،ان افراد کے علاوہ دیگر تمام غیرملکیوں کو اس حکم نامے پر عمل کرنا ہوگا۔سپریم کورٹ نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے پناہ گزینوں پر جزوی پابندی عائد کرنے کی درخواست بھی منظور کر لی ہے۔وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق ،امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ملکی تحفظ کو یقینی بنانے کی جیت ہے، امریکا کی حفاظت کیلئے فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انتظامی حکم نامے کے ذریعے 6مسلمان ممالک سے شہریوں کے امریکا آنے پر پابندی لگائی ہے جسے وفاقی عدالت نے کالعدم قرار دیا تھا۔جن ممالک پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کردی
-
معروف ریسلر ، ریسلنگ کے دوران چل بسے
-
سمارٹ لاک ڈاؤن، شاپنگ مالز اور بازاروں کیلئے نئے اوقات جاری
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
محکمہ موسمیات نے آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کر دی
-
بقایاجات ادا نہ کرنے اورگالیاں دینے پرورکر نے طیش میں آکر فیکٹری کو آگ لگادی‘ 24 کروڑ کا نقصان
-
روزگار کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، یو اے ای سے اہم پیش رفت
-
فیصل قریشی کے تیزی سے کم ہوتے وزن نے مداحوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا
-
برطانوی ٹیم کی اسلام آباد اور لاہور ایئرپورٹس آمد، ویزا کے باوجود کئی مسافر آف لوڈ کرادیے
-
600 روپے کا پیٹرول ڈلوانے پر صرف 100 روپے ادا کرنے ہوں گے!وزیراعظم اسکیم کے تحت بڑا ریلیف
-
26 اور 27 ستمبر کو موبائل سروس بند، اہم شہروں کے نام سامنے آگئے
-
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں نمایاں کمی
-
وفاق کی ایک اہم شخصیت کا پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ، لانگ مارچ پر درمیانی راستہ نکالنے پر غور



















































