جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سی پیک کو بنگلادیش اوربھارت سے ملانے کی تیاریاں،چین کیا کرنیوالا ہے؟چائنہ ریڈیو کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 20  جون‬‮  2017 |

بیجنگ (آئی این پی ) چین پاک اقتصادی راہداری کو چین بنگلادیش ،بھارت اور میانمار اقتصادی راہداری سے منسلک کیا جائے گا ،بحر ہند ، افریقہ ،بحیرہ روم سے ملانے والے سمندری روٹ کی مشترکہ تعمیر کی جائے گی،چین ، بحر اوقیانوس ،جنوبی بحرالکاہل سے ملنے والے اور بحر منجمد شمالی سے گزر کر یورپ جانے کے سمندری اقتصادی روٹ کی تعمیر کی جائے گی ۔

چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق چین کے قومی ترقی اور اصلاحات کے کمیشن اور چین کے قومی سمندری بیورو نے مشترکہ طور پر دی بیلٹ اینڈ روڈ کے تحت سمندری تعاون کا تصور پیش کیا۔ یہ تصور اس کے بعد دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کے تحت سمندری تعاون کے حوالے سے چین کی طرف سے پیش کردہ پہلا فارمولہ ہے ۔ یہ بھی دی بیلٹ اینڈ روڈ کے حوالے سے عالمی تعاون فورم پر سربراہوں کے حاصل کردہ ثمرات میں سے ایک ہے ۔ اس تصور میں تین سمندری اقتصادی روٹس کی تعمیر کو اہمیت دی گئی ہے ۔ پہلا چین ،بحر ہند ، افریقہ ،بحیرہ روم سے ملانے والے سمندری روٹ کی مشترکہ تعمیر کی جائے گی ۔اس سے چین پاک اقتصادی راہداری اورچین بنگلادیش ،بھارت اور میانمار اقتصادی راہداری کو منسلک کیا جائے گا ۔دوسرا چین ، بحر اوقیانوس اور جنوبی بحرالکاہل سے ملنے والے سمندری روٹ کی تعمیر کی جائے گی ۔ تیسرا بحر منجمد شمالی سے گزر کر یورپ جانے کے سمندری اقتصادی روٹ کی تعمیر کی جائے گی ۔ چینی حکومت نے اکیسویں صدی سمندری شاہراہ ریشم سے متعلق ممالک سے تجویز کی ہے کہ سمندری معیشت کی ترقی کے ساتھ ساتھ سمندری ماحول کے تحفظ ، سمندر کے ذریعے باہمی تبادلے ، سمندر کی سلامتی کی حفاظت ، سمندری سائنس کے مطالعے کے فروغ اور سمندر کے حوالے سے ثقافتی تبادلے کو اہمیت دی جائے۔تاکہ اس سے خوشحالی اور مشترکہ ترقی ملے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…