جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

بھارت کا جنگی جنون حد سے بڑھ گیا ٗ اربوں روپے سے جنگی طیارے اور اسلحہ خریدے گا

datetime 12  جون‬‮  2017 |

نئی دہلی (این این آئی)جنگی جنون میں مبتلا بھارت 60ہزار کروڑ روپے کی مزید چھ آبدوزیں تیار ٗ50ہزار کروڑ روپے کے 57 جنگی طیارے ٗدو ارب ڈالر کے ملٹی بیرل راکٹ لانچر کے چھ رجمنٹس اور دو لاکھ کاربائنز ( جنگی بندوقیں)خریدیگا۔بھارتی اخبار کے مطابق بھارت نے 60ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے مزید چھ آبدوزوں کی تیاری کے پروگرام کا آغاز کردیا ٗیہ آبدوزیں ان فرانسیسی ساختہ آبدوزوں کے علاوہ ہوں گی

جو ممبئی کے ڈاکیارڈ میں تیاری کے مراحل میں ہیں۔آبدوزوں کی تیاری کا فیصلہ دفاعی مینوفیکچرنگ کے لئے اہم پالیسی کی نقاب کشائی کے بعد کیا گیا جو نئی دہلی حکومت نے گزشتہ ماہ کیا۔گزشتہ ماہ ‘اسٹریٹجک پارٹنرشپ ماڈل کے منصوبے کو حتمی شکل دی گئی جس کے تحت آبدوزوں کی تیاری اولین ترجیح ہوگی۔وزارت دفاع اس بڑے سودے پر فوری عمل درآمد کا ارادہ رکھتی ہے اور جلد ہی اس منصوبے کے لیے اظہار دلچسپی جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ایک ذرائع کے مطابق دو دفاعی فرمیں انجینئرنگ لارسن اور ٹوبرو اور ریلائنس ڈیفنس پی75 ون پروگرام میں حصہ لینے کی اہل ہیں۔فی الحال بھارتی بحریہ کے لئے پروجیکٹ 75 کے تحت چھ اسکارپئین کلاس آبدوزیں تیار کی جا رہی ہیں۔ ان آبدوزوں کا ڈیزائن فرانسیسی بحری دفاع اور توانائی کمپنی ڈی سی این ایس کی طرف سے کیا گیا جنہیں ممبئی میں مازاگون ڈاکیارڈ میں تیار کیا جارہا ہے ٗاسی پروجیکٹ کے بعد پی75ون منصوبے کے تحت بھی چھ آبدوزیں بنائی جائیں گی۔ایس پی ماڈل کے تحت منتخب نجی فرموں غیر ملکی اداروں کے ساتھ شراکت میں بھارت میں آبدوزیں اور جنگی جہاز تیار کیے جائیں گے۔دوسری طرف روسی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ بھارت دو سو میٹر رینج تک ہدف کو نشانہ بنانے والی دو لاکھ جنگی کاربائن ( گنیں)حاصل کرے گا ۔گزشتہ برس بھارتی حکومت نے چھوٹے ہتھیار حاصل کرنے کا چھ سالہ ٹھیکہ منسوخ کردیا تھا۔

بھارتی اخبار کے مطابق انڈین نیوی کے لئے 57جنگی طیاروں کی تیاری کے لئے امریکی کمپنی بوئنگ اور فرانسیسی کمپنی ڈاسالٹ نے حامی بھر لی ہے۔یہ ان چار غیر ملکی کمپنیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اظہار دلچسپی کا جواب دیا ہے دیگر میں سوئیڈن اور روس کی کمپنیاں شامل ہیں۔ان طیاروں کے معاہدے کی لاگت 50ہزار کروڑ روپے سے زائد ہے۔ایک اور رپورٹ کے مطابق بھارتی وزارت دفاع نے 2 ارب ڈالر کی لاگت سے ملٹی بیرل راکٹ لانچر کے چھ رجمنٹس کی خریداری کا ایک ٹینڈر دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…