ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب نے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرلیے، جب کہ سعودی عرب میں مقیم قطری شہریوں کو بھی 14 روز میں ملک سے نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرلیے، سعودی حکام کے مطابق تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ نیشنل سیکیورٹی کے تحفظ کیلئے کیا گیا ہے، جب کہ سعودی حکام نے تمام قطری شہریوں کو بھی ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا
۔سعودی حکام کی جانب سے جاری اعلان کے مطابق قطری شہری 14 روز میں سعودی عرب سے نکل جائیں، دوسری جانب بحرین، مصر اور متحدہ عرب امارات نے بھی قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے۔ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ دہشت گردی سے لاحق خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چاروں ممالک کی جانب سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے بعد یمن جنگ میں مصروف سعودی اتحاد میں شامل قطر کے فوجی دستوں کو واپس بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ مزید برآں سعودی عرب نے قطر کے ساتھ ملحقہ سرحدیں بھی بند کردی ہیں، جب کہ زمینی، فضائی اور سمندری رابطے بھی منقطع کردیئے۔سعودی حکام کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق، ‘قطر نے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کرنے کے لیے مسلم برادرہڈ، داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد اور فرقہ وارانہ گروپوں کی حمایت کی اور میڈیا کے ذرہعے ان کے پیغامات اور اسکیموں کی تشہیر کی جس کے پیش نظر قطرکی دہشت گردی نواز پالیسی نے اسے عالمی سطح پر تنہا کردیا ہے۔ داعش اور اخوان المسلمون جیسی تنظیموں کی حمایت قطرکو مہنگی پڑی ہے اور سعودی عرب سمیت اب تک سات ممالک نے دوحہ کے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق قطر کا سفارتی بائیکاٹ کرنے والے ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب
امارات، مصر، یمن، مالدیپ اور مراکش بھی شامل ہیں۔ان ممالک نے اپنی فضائی حدود قطری فضائی کمپنیوں کے لیے بند کردی ہیں۔ قطر کا بائیکاٹ کرنے والوں میں مشرقی لیبیا کی عقیلہ صالح کی زیرنگرانی پارلیمنٹ بھی شامل ہے۔دہشت گردی کی تعریف اور دہشت گرد گروپوں سے معاملات کے بارے میں خلیجی ریاست قطر کا موقف اور پالیسی دوسری خلیجی ریاستوں کی پالیسیوں کے مغایر رہی ہے۔ قطر نہ صرف دہشت گرد تنظیموں کی حمایت مالی اور لاجسٹک مدد کرتا رہا بلکہ دوسرے ملکوں کے اندرونی امور میں مداخلت بھی جاری رکھی۔قطر کی اسی دہشت گردی نواز پالیسی نے اسے اپنے پڑوسی ملکوں اور عالمی سفارتی بائیکاٹ کا سامنا ہے۔ بائیکاٹ کرنے والے ممالک نے قطری سفارتی عملے کو 48 گھنٹوں کے اندر اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
قطر اور پڑوسی ملکوں کے لیے آمد ورفت کے تمام زمینی، فضائی اور بحری راستے بند کردیے ہیں۔ قطر کی کسی فضائی کمپنی کو بائیکاٹ کرنے والے ملکوں کی فضائی حدود سے گذرنے یا ان کے ہوائی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہیں۔ان ممالک کے شہریوں کو قطر کے سفر سے روک دیا گیا اور قطر میں مقیم شہریوں کو 14 دن کے اندر اندر وآپس آنے کو کہا گیا ہے۔متحدہ عرب امارات کی الاتحاد ایئرلائن، فلائی دبئی، العربیہ اور الخلیج نے دوحہ کے لیے اپنی پروازیں معطل کردی ہیں۔ تین دوسرے خلیجی ملکوں کے فضائی ایو ایشن کے محکموں نے قطری ہوائی جہازوں کو لینڈ کرنے یا اڑان بھرنے پر پابندی عائد کی ہے۔
یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم عرب اتحاد کی جانب سے جلد ہی قطر کے اخراج کا بھی اعلان کیا جائے گا۔جبکہ قطر نے گذشتہ ماہ مئی کے آخر میں الزام عائد کیا تھا کہ ہیکرز نے اس کی سرکاری نیوز ایجنسی کو ہیک کرکے حکمران امیر کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے حوالے سے جعلی کمنٹس پبلش کیے۔ جس کے بعد خلیجی عرب ریاستوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے مشہور سیٹلائٹ نیوز نیٹ ورک الجزیرہ سمیت قطری میڈیا پر پابندی عائد کردی تھی۔



















































