لندن(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما خان امیگریشن پالیسی کے حوالے سے بیان دینے پر دنیا کے سامنے اپنے سگے بھائی سے الجھ پڑیں ہیں ۔ برطانوی میڈیارپورٹس کے مطابق لندن حملوں کے بعد امیگریشن پالیسی کے حوالے سے دونوں بہن بھائی مائیکروں بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر آمنے سامنے آگئے اور دنیا کے سامنے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔
جمائما کے بھائی بین گولڈ سمتھ نے ٹوئٹر اکاوئنٹ پر پیغام لکھا کہ ہم نے دریا کے لیے کتنا خون مقرر کر رکھا ہے ؟اور ہمیں کب سمجھ آئے گی کہ بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد سے خطرہ بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ برطانوی لوگوں نے سمجھنا شروع کردیا ہے کہ مسلسل حملوں کے خوف میں اسرائیل میں زندگی کیسی ہو گی ۔بین گولڈ سمتھ نے اینوک پاول کی 1988کی تقریر کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اینوک پاول کے نقطہ نظر کو سمجھنا ہو گا کہ بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد سے خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ عمران خا ن کی سابق اہلیہ نے جواب میں کہاہے کہ لوگوں میں ہیجانی کیفیت اور خوف پھیلانے والی خبریں دینے سے کوئی مدد نہیں ہو گی ،لندن بہت محفوظ شہر ہے ۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں دہشت گردی سے زیادہ لوگ کتوں کے کاٹنے سے مرتے ہیں ،کتے کے کاٹنے سے ہر سال 18اموات ہوتی ہیں جبکہ دہشت گردی سے ہر سال صرف 1.4لوگ مرتے ہیں ۔جمائما خان نے کہا چار میں سے ایک جہادی سفیدفارم یا بلیک فارم شخص ہوتا ہے تو پھر امیگریشن پر پابندیاں لگا کیسے مدد ملے گی؟۔ایک اور ٹوئٹ میں جمائما نے اپنے بھائی کو یاد دلا یا کہ انکے یہودی دادابھی جرمنی سے ہجرت کرکے لندن آئے تھے کیونکہ اگرجرمنی میں رہتے توہٹلران کوختم کردیتااورجان بچاکراوراچھے مستقبل کےلئے برطانیہ آئے تھے اس لئے امیگریشن پالیسی پابندی کیوں لگائی جائے ۔



















































