جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اپنے وقت کے امیر ترین حکمران حسنی مبارک آج کس حال میں ہیں؟ افسوسناک انکشافات

datetime 4  جون‬‮  2017 |

قاہرہ (آئی این پی)مصر کے سابق مرد آہن حسنی مبارک کے وکلاء پینل میں شامل ایڈووکیٹ فرید الدیب نے اپنے موکل کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق صدر حسنی مبارک غریب اور کوڑی کوڑی کو محتاج ہیں۔ وہ خود تو میری فیس بھی ادا نہیں کر سکے بلکہ فیس ان کے مقربین اور چاہنے والے ادا کرتے تھے۔اخبار مصر الیوم کے زیراہتمام فورم پر ایک سیمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے

ایڈووکیٹ فرید الدیب نے کہا کہ حسنی مبارک اپنے ماضی اور سیاسی فیصلوں پر مطمئن ہیں۔ انہوں نے اپنے کسی اقدام پر شرمندگی کا اظہار نہیں کیا۔ نیز یہ کہ حسنی مبارک کا بیٹا جمال مبارک صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔فرید الدیب نے کہا کہ انہوں نے حسنی مبارک کا مقدمہ لڑا۔ اس دوران ان کی فیس حسنی مبارک یا ان کے خاندان کی طرف سے نہیں دی گئی بلکہ فیس کا انتظام مبارک خاندان سے باہر سے ہوتا رہا ہے، خود مبارک خاندان کے پاس کچھ نہیں۔ وہ مالی طور غریب ہو چکے ہیں۔جہاں تک حسنی مبارک کے فرزندوں جمال اور علا مبارک کو رہائی کے بعد پبلک مقامات پر کھانا کھاتے یا دوستوں کے ساتھ کھیل تماشے میں دیکھا گیا ہے تو وہ فطری بات ہے۔ دونوں صاحبزادے اپنی سماجی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ایڈووکیٹ فرید الدیب کا کہنا ہے کہ جمال مبارک نے سیاست کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ سابق خاتون اول سوزان مبارک بھی صدارتی انتخابات یا سیاسی عمل میں حصہ لینے کا انکار کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علا یا جمال مبارک میں سے کوئی بھی نہں چاہتا۔ جہاں تک حسنی مبارک کی سیاسی موروثیت کی بات ہے تو فرید الدیب کا کہنا ہے کہ اس طرح کی باتوں کا مقصد مبارک خاندان کو بدنام کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جمال مبارک اپنے والد کے جانشین بن کر ایوان صدر کی طرف نہیں جانا چاہتے۔

ان کی جیل سے رہائی کافی ہے اور اب وہ اطمینان کے ساتھ اپنے خاندان کے ہمراہ نجی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم وہ سماجی شعبے اور نوجوانوں کے روزگار کے لیے ان کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔فرید الدیب نے اپنی گفتگو میں حسنی مبارک اور ان کے خاندان سے متعلق کئی اہم انکشافات کیے۔ انہوں نے کہا کہ حسنی مبارک اپنے کیے پر شرمندہ نہیں۔ وہ مطمئن ہیں۔ وہ اپنے تفتیش کاروں اور وکلا کو بتا چکے ہیں کہ انہوں نے جو بھی کیا وہ ملک وقوم کے وسیع تر مفاد میں کیا۔

حسنی مبارک کا کہنا ہے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ میرے تمام فیصلے اور اقدامات سو فی صد صائب تھے، ان میں غیر ارادی غلطی کا احتمال موجود ہے مگر میں نے غلطی محسوس ہونے کے بعد اس کی اصلاح کی بھی پوری کوشش کی۔ میرے لیے اہم یہ ہے کہ میں خائن نہیں۔ میں مصری قوم کا خیر خواہ ہوں۔ اقتدار کے آخری ایام تک میں نے جو بھی کیا قوم کی فلاح کے لیے کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…