جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

گلوبل وارمنگ سے اس صدی کے آخر تک کئی ساحلی شہروں کے ڈوبنے کا خدشہ

datetime 1  مئی‬‮  2017 |

کراچی(نیوز ڈیسک)دنیا کی بااثر اقوام نے کئی سال پہلے یہ عہد کیا تھا کہ وہ گلوبل وارمنگ کو اس سطح تک قابو کرنے کی کوششیں کریں گی کہ موسموں کی تبدیلی کے اثرات لوگوں کے لیے قابل برداشت ہی رہیں مگر اب آکے دنیا کے ممتاز موسمی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی موجودہ شرح برقرار رہی تو اس کے بڑے خطرناک نتائج نکلیں گے۔یورپ سے شائع ہونے والے معروف سائنسی جریدے ایٹموسفیرک

کیمسٹری اینڈ فزکس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطاق اگر کرہ ارض پر ماحولیاتی تبدیلیاں اسی طرح جاری رہیں تو اس کے ممکنہ اثرات یہ ہوسکتے ہیں کہ ایسے مہلک بلکہ قاتل طوفان حملہ آور ہوں جن کا پہلے کبھی کسی کو سابقہ نہ پڑا ہو۔ پولار آئس شیٹس کے بڑے بڑے تودے ٹوٹ کر بکھر جائیں اور سمندروں میں پانی کی سطح اتنی بڑھ جائے کہ دنیا کے ساحلی شہر ڈوبنا شروع ہوجائیں اور جیسا کہ سائنسدانوں نے اعلان کیا ہے کہ یہ انتہائی خوفناک منظر اس صدی کے ختم ہونے سے پہلے ہی تخلیق ہوسکتا ہے۔ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق امریکی ادارے ناسا کے ایک سابق ماہر ماحولیات جیمز ای ہینسن کا کہنا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بدقسمتی سے ایک ایسی صورتحال کے حوالے کرکے جارہے ہیں جو ان کے کنٹرول سے باہر ہوگی۔قطبین اور دوسرے بلند پہاڑی سلسلوں میں اس وقت پانی کی بہت بڑھی تعداد برف اور گلیشئر ز کی شکل میں موجود ہے۔برھتے ہوئے درجہ حرارت سے برف پگھنے کا عمل تیز ہو جائے گا اور اس سے پانی کی ذیادہ مقدار سمندروں میں شامل ہو جائے گی جس کے سمندر کی سطح میں کئی میٹر کا اضافہ ہو گا ۔اس وجہ سے بہت سے ساحلی شہروں کے زیر آب آ جانے کا خطرہ ہے۔علاوہ ازیں درجہ حرارت بڑھنے سے ٹھنڈے علاقوں کے باسی جانوروں اور پودوں کی معدومیت کا بھی خطرہ ہےجو ذیادہ درجہ حرارت برداشت نہیں کر سکتے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…