جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی پیرا ملٹری فورسز کے کمانڈوز کاقتل عام ،ہلاکتوں کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ گئی،ہنگامی حالت نافذ

datetime 24  اپریل‬‮  2017 |

رائے پور/نئی دہلی (آئی این پی)بھارت مبینہ ما باغیوں نے پیرا ملٹری فورسز کے کمانڈوز پر حملہ کرکے 26 اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار ریاست چھتیس گڑھ میں ضلع سکما میں سڑک پر کام کرنے والے ملازمین کی سیکیورٹی پر تعینات تھے۔پولیس ترجمان بھگوت سنگھ نے بتایا کہ اب تک ہماری معلومات کے مطابقسینٹرل ریزرو پولیس فورس  کے 26 اہلکار ما باغیوں کے حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس ترجمان نے میڈیا میں آنے والی ان خبروں کی تصدیق نہیں کی کہ حملے میں 6 کمانڈوز شدید زخمی بھی ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری ایک ٹیم جائے وقوعہ پر تعینات کردی گئی ہے اور ہمیں اس حملے کے حوالے سے مزید تفصیلات جلد مل جائیں گی۔خیال رہے کہ وسطی اور مشرقی ہندوستان کے جنگلات میں ما باغیوں اور حکومت کے درمیان مسلح کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے۔گذشتہ ماہ ما باغیوں نے اسی ریاست میں ایک قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا جس میں پیراملٹری پولیس کے 11 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔یاد رہے کہ ما باغی، جن کا کہنا ہے کہ وہ قبائلی افراد اور بے زمین کسانوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں، کے ممکنہ طور پر اخراجات بھتہ وصولی سے پورے ہوتے ہیں۔ہندوستان کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے ما باغیوں کی بغاوت کو ملک کی داخلی سیکیورٹی کے لیے بہت بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لوگ غریبوں کے لیے زمین، نوکری اور دیگر حقوق کے لیے لڑرہے ہیں۔واضح رہے کہ ما باغی بھارت کی کم سے کم 20 ریاستوں میں سرگرم ہیں، جن میں چھتیس گڑھ، آڑیسہ، بہار، جھارکھنڈ اور مہاشٹرا کی ریاستیں سر فہرست ہیں۔ہندوستان میں 1960 سے جاری ما باغیوں کی بغاوت میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ناقدین نے حکومت کی جانب سے ما باغیوں کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال پر تنقید کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ اس تنازع کو بہتر گورنس اور خطے میں ترقی کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…