جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

پاک چین روس اشتراک ،چین کا دھماکہ خیز اعلان،دنیا کی صورتحال نیا رُخ اختیارکرگئی

datetime 6  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی ) پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو خطے کی صورتحال میں ایک بڑی اور مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دیتے ہوئے جنوبی ایشیا پر چین کے ایک اہم تحقیقی ادارے کے ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان، چین اور روس کا اشتراک برصغیر کا ایک نیا، روشن مستقبل تشکیل دے گا۔ ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز(آئی پی ایس) میں ‘ٹرمپ کی پالیسی برائے جنوبی ایشیا اور سی پیک کو لاحق خطرات

کے موضوع پر ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چین کی کمیونسٹ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کی نگرانی میں چلنے والے سب سے قدیم اور موثر تحقیقی مرکز چائنا انسٹی ٹیوٹس آف کنٹمپرری انٹرنیشنل ریلیشنز (کیکر) کے جنوبی ایشیائی امور کے ماہرین کے ایک تین رکنی وفد نے کیا جس کی قیادت کیکر کے ڈائریکٹر ہو شی شنگ کر رہے تھے جو کہ افغانستان کے امور پر بھی چین کے اہم ترین ماہرسمجھے جاتے ہیں۔ آئی پی ایس کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمٰن نے اس موقع پر زور دیا کہ چین اور پاکستان کی لازوال دوستی کی روح کو مستقبل بعید میں برقرار رکھنے کے لیے سی پیک کے تناظر میں چینی اور پاکستان کاروباری اداروں کے درمیان ممکنہ تنازعات کے تصفیے کے لیے ٹریبونل قائم کیے جائیں تاکہ شفافیت کو ممکن بنایا جا سکے۔ کہ چین اور پاکستان کی لازوال دوستی کی روح کو مستقبل بعید میں برقرار رکھنے کے لیے سی پیک کے تناظر میں چینی اور پاکستان کاروباری اداروں کے درمیان ممکنہ تنازعات کے تصفیے کے لیے ٹریبونل قائم کیے جائیں تاکہ شفافیت کو ممکن بنایا جا سکے۔  دونوں اداروں کے ماہرین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ سی پیک کو کسی بھی طرح سیاسی کارڈ کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ عظیم منصوبہ دونوں اقوام کی اقتصادی اور سیاسی ترقی کی مشترکہ منزل ہے جس کو لاحق کثیرالجہتی اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے بھرپور انداز میں چوکنّا رہنے کی ضرورت ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…