پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

بھارت کی اکڑ نکل گئی،پاکستان کو بڑی پیشکش

datetime 8  فروری‬‮  2017 |

نئی دہلی (آئی این پی) بھارت نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اچھے ہمسایوں کی طرح تعلقات چاہتے ہیں، دسمبر 2015 میں خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات کی منسوخی کے بعد بھی دوطرفہ سفارتی چینلز کے ذریعے پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں،حکومت نے سفارتی کوششوں کے ذریعے بین الاقومی سطح پرباور کرایا ہے کہ پاکستا ن کی پڑسیوں کے خلاف دہشتگردی کی حمایت اور اسپانسر کرنے کی پالیسی خطے کے امن واستحکام کیلئے درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے ،

مسئلہ کشمیر کو بین الاقومی بنانے کی پاکستانی کوششوں کو موثر طریقے سے بے اثر بنادیا ، بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے پرامن دوطرفہ مذاکرات صرف دہشتگردی اور تشدد سے پاک ساز گار ماحول میں ہی منعقد ہوسکتے ہیں۔بدھ کو بھارتی میڈیاکے مطابق لوک سبھا میں وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایک تحریری جواب میں کہاکہ دسمبر 2015 میں خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات کی منسوخی پر اتفاق کے بعد بھی دوطرفہ سفارتی چینلز کے ذریعے پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں جس میں تمام فوری انسانی ہمدردی کے حل طلب مسائل بھی شامل ہیں ۔بھارتی وزیر خارجہ نے کہاکہ دسمبر 2015کے انکے دورہ اسلام آبادمیں دوطرفہ جامع مذاکرات کے طریقہ کار کا فیصلہ کرنے کیلئے پاک بھارت خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان مذاکرت پر اتفاق ہوا تھا تاہم جنوری 2016میں پٹھانکوٹ ایئربیس پر دہشتگردوں کے حملے کی وجہ سے یہ مذاکرات نہیں ہوسکے تھے ۔سشما سوراج نے کہاکہ پٹھانکوٹ اور اڑی حملوں کے تناظر میں حکومت نے سفارتی کوششوں کے ذریعے بین الاقومی سطح پر وسیع پیمانے پر اس بات کو باور کرایا کہ پاکستا ن کی پڑسیوں کے خلاف دہشتگردی کی حمایت اور اسپانسر کرنے کی پالیسی خطے کے امن واستحکام کیلئے درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے ۔بھارتی وزیر خارجہ نے کہاکہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقومی بنانے کی پاکستانی کوششوں کو موثر طریقے سے بے اثر بنایا اور یہ باور کرایاکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے پرامن دوطرفہ مذاکرات صرف دہشتگردی اور تشدد سے پاک ساز گار ماحول میں ہی منعقد ہوسکتے ہیں۔اس مدت کے دوران بھارت اور پاکستان کی حکومتیں دوطرفہ سفارتی چینلز کے ذریعے تمام فوری انسانی اور دیگر معاملات کے حل کے حوالے سے رابطے میں رہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…