اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

خوف یا بہادری؟ جب ایک برطانوی جنگجو داعش کے گھیرے میں آیا تو اس نے کیا حیران کن کام کیا

datetime 1  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) شام میں جاری لڑائی میں کرد جنگجوئوں کے شانہ بشانہ حصہ لینے والے ایک برطانوی جنگجونے دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں گرفتار ہونے سے بچنے کے لیے خود کو گولی مارلی۔20 سالہ رائن لاک کا تعلق مغربی سسیکس کے علاقے سے تھا اور انھوں نے رقہ میں داعش کے ساتھ جنگ کے دوران 21 دسمبر کو اپنے آپ کو گولی ماری۔

رائن کرد فوج کے ہمراہ رضا کارانہ طور پر لڑ رہا تھا۔ذرائع کے مطابق کرد جنگجوئوں نے رائن کی ٹھوڑی کے نیچے موجود زخم سےکی جانچ کے بعد اسے خود کشی قرار دیا ہے۔واقعات کے مطابق جابار نامی گاؤں میںچار کردجنگجو ئوں کے ہمراہ رائن لاک دولتِ الامیہ کے گھیرے میں آ گیا تھا اور مرنے سے پہلے ان پانچ افراد نے بچ نکلنے کی سرتوڑ کوششیں کیں۔ان کی لاشیں ملنے پر پتا چلا کہ بظاہر برطانوی جنگجو نے داعش کے ہاتھوں پکڑے جانے سے بچنے کے لیے خود کشی کر لی تھی،ایک رپورٹ کے مطابق گولی کا زخم بتا رہا ہے کہ بندوق ٹھوڑی کے ساتھ رکھ کر گولی چلائی گئی۔ جس سے نتیجہ اخد کیا جاتا ہے کہ جنگجو نے خود کشی کی تھی۔انسانی حقوق کے کرد کارکن مارک چیپل نےمذکورہ برطانوی جنگجوکو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’شاید رائن کا دولتِ اسلامیہ کے ہاتھ لگنے کے بجائے خود کشی کرنا اچھا فیصلہ تھا۔ اس بہادری کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔‘’میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ وہ اپنی بہادری کے لیے اعلیٰ فوجی اعزاز کے مستحق ہیں۔‘رائن لاک جو پیشے کے لحاظ سے ایک باورچی تھا اگست میں شام گیا جبکہ دوستوں اور خاندان کو بتایا کہ وہ چھٹیاں منانے ترکی جا رہاہے۔ اس کی لاش عراق لائی گئی تھی جہاں سے اسے برطانیہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…