جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

MH370کی تباہی، آسٹریلیا، ملائشیا اور چیننے اہم اعلان کردیا

datetime 18  جنوری‬‮  2017 |

سڈنی /کوالالمپور(آئی این پی )تین سال قبل ملائشیا کے لاپتہ ہونے والے مسافر طیارے کی تلاش کا روک دیا گیا ، اس مسافر طیارے میں 239 افراد سوار تھے۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق آسٹریلیا، ملائشیا اور چین کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بحر ہند میں ایک لاکھ 20 ہزار مربع کلومیٹر میں لاحاصل تلاش کے بعد یہ فیصلہ ‘افسوس’ کے ساتھ کیا گیا ہے۔تاہم وہ پرامید ہیں کہ نئی معلومات سے مستقبل میں طیارے کے بارے علم ہوسکتا ہے۔

طیارے میں سوار مسافروں کے رشتے داروں نے یہ فیصلے کو ‘غیرذمہ دارانہ’ قرار دیتے ہوئے اس پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔سنہ 2014 میں ملائشین ایئرلائنز کا بوئنگ 777 جہاز بیجنگ سے کوالالمپور جاتے ہوئے لاپتہ ہوگیا تھا۔تاحال صرف ایسے 20 ٹکڑے مل سکے ہیں جن کی شناخت لاپتہ طیارے کے ملبے کے طور پر کی گئی ہے یا قیاس ہے کہ وہ طیارے کا حصہ ہوسکتے ہیں۔نومبر 2016 میں ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے طیارہ ممکنہ طور پر ‘بلند ہوا اور تیزی سے نیچے’ بحرہند میں گر گیا۔منگل کو جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ طور پر سائنٹیفک جائزوں کے ذریعے مزید ممکنہ علاقوں میں تلاش کا کام کیا گیا، تاہم آج تک جہاز کے مخصوص مقام کے بارے میں کوئی نئی معلومات سامنے نہیں آسکیں۔بیان کے مطابق ہم پرامید ہیں کہ نئی معلومات سامنے آتی رہیں گی اور مستقبل میں کسی موقع پر طیارے کو تلاش کر لیا جائے گا۔

دوسری جانب مسافروں کے رشتے داروں کے وائس 370 نامی گروپ نے کہا ہے کہ تلاش کا کام ضرور جاری رہنا چاہیے اور اس کا دائرہ بڑھانا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ فضائی سہولت فراہم کرنے والوں کا ناگزیر فرض ہے کہ وہ فضائی سفر کے تحفظ کے لیے ایسا جاری رکھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…