اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

مسلمانوں بارے ٹرمپ کی جانب سے فیس بک کو درخواست۔۔ فیس بک نے صاف انکار کر دیا

datetime 18  دسمبر‬‮  2016 |

نیویارک (آئی این پی) سوشل میڈیا ویب سائٹ ”فیس بک“ نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمانوں کی فہرستیں ترتیب دینے میں مدد فراہم کرنے کی تجویز کو مسترد کردیا۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق دی انٹر سیپٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ فیس بک نے ایک جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمانوں کی فہرستیں تیار کرنے میں مدد فراہم کرنے کی تجویز کو مسترد کردیا۔فیس بک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کسی نے ہم سے مسلمانوں کی رجسٹری کرنے کو نہیں کہا، اور یہ واضح ہے کہ ہم ایسا نہیں کرنے جارہے۔اس اعلان کے بعد فیس بک اور ٹوئٹر دنیا کی واحد دو کمپنیاں ہیں جنھوں نے مسلمانوں کی فہرست بنانے کے غیر آئینی اور سخت گیر عمل کو کرنے سے انکار کردیا ہے۔یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کئی بیانات دے چکے ہیں، جن پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ایک بیان میں انہوں نے مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کو اس طرح کے بیانات پر نہ صرف دنیا بھر کے بلکہ امریکا کے سیاسی رہنماں کی جانب سے بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔واضح رہے کہ ارب پتی امریکی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم شروع سے اب تک مسلمانوں کیخلاف بیان بازی سے بھری پڑی ہے، 7 دسمبر 2015 کو سین برنارڈینو حملے کے بعد انہوں نے مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔یہ بھی یاد رہے کہ 13 جون کو اورلینڈو حملے کے بعد بھی انہوں نے دہشتگردوں کے امریکا داخلے پر پابندی کی بات کی تاہم انہوں نے اس بار مسلمانوں کا نام نہیں لیا۔اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 دسمبر 2015 کو ریاست کیلی فورنیا شوٹنگ کے واقعے میں 14 امریکیوں کی ہلاکت کے بعد، امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کی تجویز دی تھی۔اب ان کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ وہ ممالک جن کا دہشتگری سے تعلق نہیں وہاں موجود مسلمان امریکا آسکتے ہیں، انہوں نے یہ بیان اسکاٹ لینڈ میں دیا جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اسکاٹ لینڈ کے مسلمان کو امریکا آنے دیں گے۔واضح رہے کہ صدارتی انتخاب کے لیے اپنی انتخابی مہم کی خود ہی فنڈنگ کرنے والے ارب پتی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ کو مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے بیان اور میکسیکو سے ہجرت کرکے امریکا آنے والوں کو مجرم اور ریپسٹ کہنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کی مسلمانوں پر پابندی کی تجویز کی ناصرف حکومتی اراکین، بلکہ ان کی اپنی پارٹی کے ساتھیوں نے بھی مذمت کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…