بدھ‬‮ ، 01 اپریل‬‮ 2026 

بھوک کاشکارممالک کی فہرست جاری ،پاکستان کانمبرجان کرآپ حیران رہ جائیں گے

datetime 13  اکتوبر‬‮  2016 |

واشنگٹن( آن لائن )انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے بھوک کا شکار ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے جس میں پاکستان 11ویں نمبر پر ہے۔ادارے کی جانب سے گلوبل ہنگر انڈیکس 2016 میں مختلف ممالک کے لوگوں کو خوراک کی دستیابی کی صورتحال کے مطابق انھیں صفر سے 100 پوائنٹس کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے۔پاکستان 118 ممالک میں 11ویں نمبر پر ہے اور اس کے 33.4 پوائنٹس ہیں۔ پاکستان سے صرف 11 ملک ایسے ہیں جہاں بھوک کا شکار لوگوں کا تناسب زیادہ ہے۔ بھارت اس رپورٹ میں پاکستان سے بہتر ہے۔بتایا گیا ہے کہ دنیا کے کل 70 کروڑ 95 لاکھ افراد بھوک کا شکار ہیں۔سنہ 2008 میں پاکستان کے پوائنٹس 35 اعشاریہ ایک تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب یہاں بھوک میں کمی کچھ کم ہوئی ہے۔لیکن درجہ بندی سے معلوم ہوتا ہے کہ اب بھی غذا کی قلت کے شکار ممالک میں پاکستان تشویشناک صورتحال سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔پاکستان میں کل آبادی کا 22 فیصد حصہ غذا کی کمی کا شکار ہے اور آٹھ اعشاریہ ایک فیصد بچے پانچ سال سے کم عمر میں ہی وفات پا جاتے ہیں۔افغانستان کا نمبر آٹھواں جبکہ انڈیا کا نمبر 22واں ہے۔انڈیا، نائجیریا اور انڈونیشیا سمیت 43 ممالک بھی تشویشناک کیٹیگری میں شامل ہیں۔2016 کے انڈیکس کے مطابق سات ممالک میں بھوک کی صورتحال خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں صحارا، وسطی افریقہ، چاڈ، میڈاگاسکر، سیرالیون اور زمبیا شامل ہیں۔بتایا گیا ہے کہ سنہ 2000 سے لے کر اب تک بھوک کی شرح میں 29 فیصد کمی ہوئی ہے اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کوئی بھی ترقی پذیر ملک غذائی قلت کی وجہ سے شدید خطرے سے دوچار نہیں ہے۔13 ممالک ایسے ہیں جہاں سے ڈیٹا اکھٹا نہیں کیا جا سکا ان میں سے دس ممالک ایسے ہیں جہاں بھوک و افلاس کی صورتحال شدید خطرناک ہے ان میں شام، سوڈان اور صومالیہ شامل ہیں۔118 ممالک میں سے نصف ایسے ہیں جو بھوک کے شکار ہونے والوں میں ’خطرناک‘ یا ’تشویشناک‘ کیٹیگری میں شامل ہیں۔ادارے کا کہنا ہے کہ سنہ 2030 تک دنیا سے بھوک کا خاتمہ کرنے کا ہدف تب ہی حاصل ہوسکتا ہے جب سیاسی طور پر اس کے حصول کی کوشش کی جائے اور جنگ و جدل کا خاتمہ ہو۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان سمیت 45 ممالک اگر 2030 تک اپنا ہدف پورا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں غذائیت کی کمی ختم کرنے کے لیے اپنی رفتار کو بڑھانا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…