اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

بھوک کاشکارممالک کی فہرست جاری ،پاکستان کانمبرجان کرآپ حیران رہ جائیں گے

datetime 13  اکتوبر‬‮  2016 |

واشنگٹن( آن لائن )انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے بھوک کا شکار ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے جس میں پاکستان 11ویں نمبر پر ہے۔ادارے کی جانب سے گلوبل ہنگر انڈیکس 2016 میں مختلف ممالک کے لوگوں کو خوراک کی دستیابی کی صورتحال کے مطابق انھیں صفر سے 100 پوائنٹس کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے۔پاکستان 118 ممالک میں 11ویں نمبر پر ہے اور اس کے 33.4 پوائنٹس ہیں۔ پاکستان سے صرف 11 ملک ایسے ہیں جہاں بھوک کا شکار لوگوں کا تناسب زیادہ ہے۔ بھارت اس رپورٹ میں پاکستان سے بہتر ہے۔بتایا گیا ہے کہ دنیا کے کل 70 کروڑ 95 لاکھ افراد بھوک کا شکار ہیں۔سنہ 2008 میں پاکستان کے پوائنٹس 35 اعشاریہ ایک تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب یہاں بھوک میں کمی کچھ کم ہوئی ہے۔لیکن درجہ بندی سے معلوم ہوتا ہے کہ اب بھی غذا کی قلت کے شکار ممالک میں پاکستان تشویشناک صورتحال سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔پاکستان میں کل آبادی کا 22 فیصد حصہ غذا کی کمی کا شکار ہے اور آٹھ اعشاریہ ایک فیصد بچے پانچ سال سے کم عمر میں ہی وفات پا جاتے ہیں۔افغانستان کا نمبر آٹھواں جبکہ انڈیا کا نمبر 22واں ہے۔انڈیا، نائجیریا اور انڈونیشیا سمیت 43 ممالک بھی تشویشناک کیٹیگری میں شامل ہیں۔2016 کے انڈیکس کے مطابق سات ممالک میں بھوک کی صورتحال خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں صحارا، وسطی افریقہ، چاڈ، میڈاگاسکر، سیرالیون اور زمبیا شامل ہیں۔بتایا گیا ہے کہ سنہ 2000 سے لے کر اب تک بھوک کی شرح میں 29 فیصد کمی ہوئی ہے اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کوئی بھی ترقی پذیر ملک غذائی قلت کی وجہ سے شدید خطرے سے دوچار نہیں ہے۔13 ممالک ایسے ہیں جہاں سے ڈیٹا اکھٹا نہیں کیا جا سکا ان میں سے دس ممالک ایسے ہیں جہاں بھوک و افلاس کی صورتحال شدید خطرناک ہے ان میں شام، سوڈان اور صومالیہ شامل ہیں۔118 ممالک میں سے نصف ایسے ہیں جو بھوک کے شکار ہونے والوں میں ’خطرناک‘ یا ’تشویشناک‘ کیٹیگری میں شامل ہیں۔ادارے کا کہنا ہے کہ سنہ 2030 تک دنیا سے بھوک کا خاتمہ کرنے کا ہدف تب ہی حاصل ہوسکتا ہے جب سیاسی طور پر اس کے حصول کی کوشش کی جائے اور جنگ و جدل کا خاتمہ ہو۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان سمیت 45 ممالک اگر 2030 تک اپنا ہدف پورا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں غذائیت کی کمی ختم کرنے کے لیے اپنی رفتار کو بڑھانا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…