اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

پاک چین اقتصادی راہداری ،بڑی پیشرفت،ایران نے زبردست اعلان کردیا

datetime 4  اکتوبر‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی)ایران کے قونصل جنرل محمد حسین بانی اسدی نے کہا ہے کہ چین پاکستان اکنامک کاریڈور ایک بہت بڑی معاشی پیش رفت ہے اور ایران اس کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط، سینئر نائب صدر امجد علی جاوا اور نائب صدر محمد ناصر حمید خان سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر کیا۔ ایرانی قونصل جنرل ایک ایرانی وفد کی سربراہی کررہے تھے۔ وفد کے اراکین احمد سبحانی، مقصود جاوید، لاہور چیمبر کے سابق صدر سید محسن رضا بخاری، سابق سینئر نائب صدر میاں نعمان کبیر، ایگزیکٹو کمیٹی اراکین میاں زاہد جاوید، اویس پراچہ، میاں محمد نواز، علی حسام اصغرمعظم رشید، محمد ارشد چودھری، طاہر منظور چودھری، سید مختار علی، شاہد نذیر اور شاہ رخ بٹ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ایرانی بینک کی برانچ جلد ہی کراچی میں کام شروع کردے گی، سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس سلسلے معاملات کو حتمی شکل دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن پراجیکٹ ہر صورت مکمل ہونا چاہیے، اس سے پاکستان کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں لاہور چیمبر کے نئے عہدیداروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ لاہور چیمبر ایک تھنک ٹینک ہے جو علاقائی تجارت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط نے کہا کہ چین پاکستان اکنامک کاریڈور کے منصوبوں میں پاکستانی اور ایرانی تاجروں کے درمیان اشتراک بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ونوں ممالک کے درمیان وفود کا تبادلہ جاری رہنا چاہیے کیونکہ اس سے دوطرفہ تجارت بڑھانے میں بہت مدد ملتی ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کو مارکیٹ ریسرچ پر توجہ دینی چاہیے ،دونوں ممالک درآمدات اور برآمدات کے سلسلے میں ایک دوسرے کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایس ایم ایز، آئل اینڈ گیس، پاور پراجیکٹس، پیپر اینڈ پیپر بورڈ، سیمنٹ اور کیمیکل وغیرہ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبہ سازی کرنی چاہیے۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر امجد علی جاوا اور نائب صدر ناصر سعید خان نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے لیکن پوسٹ ہارویسٹ ٹیکنالوجی کے فقدان کی وجہ سے پیداوار کا بڑا حصہ ضائع ہوجاتا ہے، اس سلسلے میں ایران پاکستان کی مدد کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات مشہور ہیں جنہیں ایران میں خاطر خواہ طریقے سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…