جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

اب کیا ہوگا؟ افغان شہری شدید خوف و ہراس کا شکار،اقوام متحدہ کی رپورٹ میں حیرت انگیز انکشافات

datetime 18  جون‬‮  2016 |

کابل(آئی این پی)اقوام متحدہ کے افغانستان کیلئے معاون مشن نے کہا ہے کہ ماضی قریب کی نسبت افغان شہری اب خود کو کم محفوظ سمجھتے ہیں، شہری جانی نقصان کی شرح سات سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کا معاون مشن 2009 سے افغان شہریوں کے جانی نقصان پر نظر رکھے ہوئے اور اس کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اس میں تاریخی اضافہ ہوا۔امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ ماضی قریب کی نسبت اس وقت افغان شہری ملک میں خود کو کم محفوظ تصور کرتے ہیں جب کہ شہری جانی نقصان کی شرح سات سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔یہ بات پینٹاگان نے افغانستان میں سلامتی کی صورتحال سے متعلق جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتائی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ایسے میں جب افغان حکومت آبادی کے تمام بڑے مراکز اور کلیدی مواصلات کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہے مزاحم عسکریت پسندی ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرتی جا رہی ہے۔افغان شہریوں کے کیے گئے ایک سروے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ہاں سلامتی کا تصور اس وقت سب سے کم شرح پر ہے۔ 42 فیصد شہریوں کا کہنا تھا کہ اس وقت سلامتی صورتحال 1996 سے 2001 تک طالبان کے دور حکومت سے بھی زیادہ خراب ہے۔افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کا معاون مشن 2009 سے افغان شہریوں کے جانی نقصان پر نظر رکھے ہوئے اور اس کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اس میں تاریخی اضافہ ہوا۔مشن نے متنبہ کیا تھا کہ گنجان آباد علاقوں تک پہنچنے والی لڑائی اور خودکش حملوں کی وجہ سے رواں سال کے پہلے حصے میں شہری جانی نقصان میں اضافہ ہو سکتا ہے۔رواں ماہ کے اوائل میں وائٹ ہاؤ س نے طالبان کے خلاف کارروائیوں کے لیے افغانستان میں موجود اپنے فوجیوں کو مزید اختیارات تفویض کیے تھے۔ ان اختیارات کی درخواست امریکی فوجی کمانڈروں نے کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…