جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

نہرو یونیورسٹی تنازع، کنہیا کمار کی گرفتاری نے ملک میں ہلچل مچادی

datetime 27  فروری‬‮  2016 |
ABVP members arguing with SFS during SFS protest against arrest of JNUSU President Kanhaiya Kumar under false charges of sedition at Student center in Panjab University in Chandigarh on Monday, February 15 2016. Express Photo by Sahil Walia

نئی دہلی(نیوز ڈیسک)دہلی کی جواہر لا ل نہرو یونیورسٹی کی طلباءتنظیم کے صدر کنہیا کمار کی غداری کے الزامات کے تحت گرفتاری کے معاملے پر بھارتی میڈیا دو گروہوںمیں بٹ گیا۔رواں ماہ ایک طالب علم کنہیا کمار کی غداری کے الزامات کے بعد گرفتاری پر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں آزادی رائے پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ یہ بحث اس خیال کے گرد گھوم رہی ہے کہ آیا بھارتیہ جنتا پارٹی برطانوی دور کے قانون کا استعمال ایسے عناصر کے خلاف کررہی ہے جس سے اسے اختلاف ہے۔کنہیا کمار پر الزام ہے کہ انھوں نے کشمیری رہنما افضل گورو کی پھانسی کی برسی کے موقع پر ایک ریلی کا انعقاد کیا تھا اور اس موقع پر ‘بھارت مخالف نعرے لگائے تھےتاہم کمار نے ان الزامات کی تردید کردی تھی۔اس بحث نے دو مختلف قسم کے گروہوں کو جنم دیا ہے جس کی جھلک ہمیں بھارتی میڈیا پر نظر آتی ہے جہاں ‘قومی مفاد کا مقابلہ آزادی رائے سے ہے۔ حکمراں جماعت کے موقف کی تائید کرتا نظر آرہاہے جس نے اس تنازعے کو ‘بھارت پرحملے کی طرح پیش کیا ہے۔ا ٹائمز آف انڈیا نے قومی مفاد کی مخالف سرگرمیوں کو آزادی رائے کے روپ میں چھپایا نہیں جاسکتا۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…