جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

پشاور فضائیہ کے کیمپ پر طالبان حملہ نو ماہ پہلے آرمی پبلک سکول پشاور پر ہونے والے حملے کی طرح منظم تھا،غیرملکی میڈیا

datetime 20  ستمبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پاک فضائیہ کے کیمپ پر جمعہ کو ہونے والا طالبان حملہ نو ماہ پہلے آرمی پبلک سکول پشاور پر ہونے والے حملے ہی کی طرح ایک منظم حملہ تھا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق اس حملے سے یہ بات بھی ثابت ہو رہی ہے کہ فوجی آپریشنوں کی وجہ سے شدت پسند تنظیمیں کمزور ضرور ہوئی ہے لیکن ان کی حملہ کرنے کی صلاحیت ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ وہ بدستور ملک کے کسی بھی حساس مقام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آرمی پبلک سکول اور حالیہ دونوں حملوں کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ دونوں واقعات میں شدت پسندوں کی جانب سے ایک ہی طرح کا طریقہ کار استعمال کیا گیا۔سکول حملے میں چھ خودکش حملہ آوروں نے عمارت میں داخل ہوکر بچوں اور اساتذہ کو ہلاک کیا اور جمعے کو بھی 14 شدت پسندوں نے کیمپ پر حملہ کر دیا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ دونوں حملے انتہائی حساس مقامات پر کیے گئے جہاں جانے کیلیے کئی سکیورٹی چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے سینیئر تجزیہ کار اور مصنف ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دہشت گرد ایک مرتبہ پھر آرمی پبلک سکول کی طرح ایک اور حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن شاید پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے۔انھوں نے کہا کہ اس حملے سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ شہروں میں شدت پسندوں کے ’سلپر سیلز‘ بدستور فعال ہے چاہے وہ خیبر پختونخوا اور پنچاب میں ہوں یا ملک کے دیگر حصوں میں۔ان کے مطابق اس واقع میں کسی حد تک پولیس اور دیگر اداروں کی ناکامی بھی نظر آتی ہے کیونکہ ایک درجن سے زیادہ دہشت گرد کیسے اتنے اہم اور حساس علاقے میں داخل ہوئے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کانوں کان خِبر نہیں ہوئی۔ڈاکٹر خادم حسین کے بقول مرکز اور صوبوں کو مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا ہوگا اور اس کی ذمہ داری لینے ہوگی ورنہ آنے والے دنوں میں پھر سے ایسے واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…