ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

شام میں برطانوی ڈرون حملے میں دو برطانوی جنگجو ہلاک

datetime 8  ستمبر‬‮  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک)برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ شام میں برطانوی فضائیہ کے ڈرون حملے میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے دو برطانوی جنگجو مارے گئے تھے۔وزیراعظم کیمرون نے پیر کو ارکان پارلیمان کو بتایا ہے کہ کارڈیف کے رہائشی ریاد خان اور ابرڈین کے رہائشی روح المین گذشتہ ماہ شامی شہر رقہ میں برطانوی فضائیہ کے ڈرون حملے میں مارے گئے اور یہ برطانیہ کا شام میں دولت اسلامیہ کے لیے لڑنے والے برطانوی شہریوں پر پہلا حملہ تھا۔وزیراعظم کے بقول ریاد خان نے برطانوی سرزمین پر ’سفاکانہ‘ حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی اور اپنے دفاع کے لیے اٹھایا جانے والا یہ قدم قانونی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ریاد خان کو بے حد محتاط منصوبہ بندی کے بعد ڈرون میں اس وقت ہدف بنایا گیا جب وہ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے یہ بھی تصدیق کی کہ 24 اگست کو رقہ میں ہی امریکی فورسز کی کارروائی میں برمنگھم سے تعلق رکھنے والی جنید حسین مارے گئے تھے۔انھوں نے مزید کہا کہ ریاد خان اور جنید حسین نے رواں موسم گرما میں برطانیہ میں منعقد ہونے والی یادگاری تقریبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ریاد خان کے خلاف کارروائی سے پہلے اٹارنی جنرل سے مشاورت کی گئی تھی اور وہ اس بات پر واضح طور پر متفق تھے کہ ریاد خان کو ہدف بنانے کا قانونی جواز موجود ہے۔دوسری جانب کارڈف میں ریاد خان کے اہلخانہ کے قریب ایک شخص محمد اسلام نے اس واقعے سے متعلق سچ جاننے کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔’یہ بہت ہی پیچیدہ معاملہ ہے اور ریاد خان کے اہلخانہ کو بہت دکھ اور صدمہ پہنچا ہے۔‘دوسری جانب حقوق انسانی کے گروپ ریپریو کی کٹ گریگ نے کہا ہے کہ انھیں فضائی کارروئیوں پر گہری تشویش ہے اور اس ضمن میں قانونی مشورے کو شائع کیا جانا چاہیے۔’ہمیں کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ برطانیہ کی جانب امریکہ کی ناکام خفیہ کارروائیوں کو ہوبہو نقل کی جا رہی ہے۔‘
برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے کہا ہے کہ برطانیہ کے لیے خطرے کا باعث بننے والے دولتِ اسلامیہ کے اہداف کو نشانہ بنانے کے معاملے کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا اور اس کی تردید کرتے ہیں کہ آیا ایسی دیگر کارروائیوں کی اجازت دی گئی۔برطانوی سکیورٹی حکام کے مطابق 700 کے قریب برطانوی شہری شام گئے اور ان میں سے نصف کے قریب واپس لوٹ آئے ہیں۔خیال رہے کہ دو دن پہلے ہی بی بی سی کو معلوم ہوا تھا کہ برطانوی حکومت شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف مزید اقدامات لینے کے لیے تیار ہے۔جولائی میں وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ مل کر شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کی خود ساختہ خلافت کو ختم کرنے کے بارے میں پر عزم ہے۔ان کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا امریکی فضائیہ کے ساتھ کام کرنے والے برطانوی پائلٹوں کی جانب سے شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد حزبِ مخالف کی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ وضاحت کرے کہ پارلیمان کی جانب سے شام میں فوجی کارروائی کی مخالفت کے باوجود برطانوی پائلٹ شام میں امریکی فوجی کارروائی کا حصہ کیوں بنے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…