پیر‬‮ ، 02 فروری‬‮ 2026 

شام میں برطانوی ڈرون حملے میں دو برطانوی جنگجو ہلاک

datetime 8  ستمبر‬‮  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک)برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ شام میں برطانوی فضائیہ کے ڈرون حملے میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے دو برطانوی جنگجو مارے گئے تھے۔وزیراعظم کیمرون نے پیر کو ارکان پارلیمان کو بتایا ہے کہ کارڈیف کے رہائشی ریاد خان اور ابرڈین کے رہائشی روح المین گذشتہ ماہ شامی شہر رقہ میں برطانوی فضائیہ کے ڈرون حملے میں مارے گئے اور یہ برطانیہ کا شام میں دولت اسلامیہ کے لیے لڑنے والے برطانوی شہریوں پر پہلا حملہ تھا۔وزیراعظم کے بقول ریاد خان نے برطانوی سرزمین پر ’سفاکانہ‘ حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی اور اپنے دفاع کے لیے اٹھایا جانے والا یہ قدم قانونی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ریاد خان کو بے حد محتاط منصوبہ بندی کے بعد ڈرون میں اس وقت ہدف بنایا گیا جب وہ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے یہ بھی تصدیق کی کہ 24 اگست کو رقہ میں ہی امریکی فورسز کی کارروائی میں برمنگھم سے تعلق رکھنے والی جنید حسین مارے گئے تھے۔انھوں نے مزید کہا کہ ریاد خان اور جنید حسین نے رواں موسم گرما میں برطانیہ میں منعقد ہونے والی یادگاری تقریبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ریاد خان کے خلاف کارروائی سے پہلے اٹارنی جنرل سے مشاورت کی گئی تھی اور وہ اس بات پر واضح طور پر متفق تھے کہ ریاد خان کو ہدف بنانے کا قانونی جواز موجود ہے۔دوسری جانب کارڈف میں ریاد خان کے اہلخانہ کے قریب ایک شخص محمد اسلام نے اس واقعے سے متعلق سچ جاننے کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔’یہ بہت ہی پیچیدہ معاملہ ہے اور ریاد خان کے اہلخانہ کو بہت دکھ اور صدمہ پہنچا ہے۔‘دوسری جانب حقوق انسانی کے گروپ ریپریو کی کٹ گریگ نے کہا ہے کہ انھیں فضائی کارروئیوں پر گہری تشویش ہے اور اس ضمن میں قانونی مشورے کو شائع کیا جانا چاہیے۔’ہمیں کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ برطانیہ کی جانب امریکہ کی ناکام خفیہ کارروائیوں کو ہوبہو نقل کی جا رہی ہے۔‘
برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے کہا ہے کہ برطانیہ کے لیے خطرے کا باعث بننے والے دولتِ اسلامیہ کے اہداف کو نشانہ بنانے کے معاملے کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا اور اس کی تردید کرتے ہیں کہ آیا ایسی دیگر کارروائیوں کی اجازت دی گئی۔برطانوی سکیورٹی حکام کے مطابق 700 کے قریب برطانوی شہری شام گئے اور ان میں سے نصف کے قریب واپس لوٹ آئے ہیں۔خیال رہے کہ دو دن پہلے ہی بی بی سی کو معلوم ہوا تھا کہ برطانوی حکومت شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف مزید اقدامات لینے کے لیے تیار ہے۔جولائی میں وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ مل کر شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کی خود ساختہ خلافت کو ختم کرنے کے بارے میں پر عزم ہے۔ان کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا امریکی فضائیہ کے ساتھ کام کرنے والے برطانوی پائلٹوں کی جانب سے شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد حزبِ مخالف کی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ وضاحت کرے کہ پارلیمان کی جانب سے شام میں فوجی کارروائی کی مخالفت کے باوجود برطانوی پائلٹ شام میں امریکی فوجی کارروائی کا حصہ کیوں بنے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…