واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکی دفاعی حکام گوانتانامو بے حراستی مرکز کے متبادل کے طور پر جنوبی کیرولینا میں متوقع فوجی جیل تلاش کر رہے ہیں، جہاں کیوبا سے لائے گئے قیدیوں کو رکھا جا سکے گا۔پینٹاگون کے ترجمان نے بتایا کہ ایک سروے ٹیم نے چارلسٹن میں امریکی نیول بیس کا دو روزہ دورہ کیا۔ ترجمان گرے روز کے مطابق، گوانتانامو بے سے لائے گئے زیر حراست افراد کو رکھنے کے لئے دیگر سہولیات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔وائس آف امریکہ پہلے ہی اس ماہ کے اوائل میں یہ خبر دے چکا ہے کہ لیون ورتھ اور کنساس میں وفاقی عمارتوں میں واقع ان سہولیات کا جائزہ لینے کے لئے دفاعی حکام دورہ کرچکے ہیں۔گرے روز کا کہنا ہے کہ گوانتانامو بے کے زیر حراست افراد کو رکھنے کے لئے متوقع مقامات کا جائزہ لینا ضروری ہے، تاکہ ان میں گنجائش کا پتہ لگایا جاسکے گا اور یہاں آنے والے اخراجات کا تخمینہ بھی لگایا جاسکے۔صدر اوباما نے 2009 میں اقتدار میں آنے کے بعد گونتانامو بے کے اس حراستی مرکز کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا جو 2001 کے نائین الیون کو دہشت گردوں کے حملے اور اس کے بعد افغانستان پر جوابی حملے کے بعد قائم کئے گئے تھے۔ حالانکہ، بہت سے گوانتانامو بے کے قیدی مختلف ممالک میں منتقل کئے جاچکے ہیں اور صرف 116 قیدی اس حراستی مرکز میں باقی رہ گئے ہیں۔موجودہ صدر کی بقیہ 16 ماہ کی مدت میں گوانتانامو بے کی بندش انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ حالانکہ، بہت سے قیدی ان کے اپنے ممالک یا جن ممالک نے انھیں قبول کیا وہاں منتقل کیے جاچکے ہیں۔ تاہم، دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ وہ کم از کم 50 قیدیوں کو کہیں اور نہیں کھپا سکیں گے اس لئے انھیں امریکہ میں رکھنے کے لئے متوقع مقامات تلاش کرنا پڑرہا ہے۔ان قیدیوں کو امریکہ میں لانا مقامی طور پر ایک متنازعہ مسئلہ رہا ہے، اور انتظامیہ کے اس منصوبہ کی کانگریس کے بہت سے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ اراکین مخالفت کرتے رہے ہیں اور سیکریٹری دفاع ایش کارٹر اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ گوانتانامو بے نیول بیس کا یہ حراستی مرکز کھلا رہے گا۔منگل کو امریکی فوجی خدمات سے وابستہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اراکین سے ٹیلی فون بات چیت میں انھوں نے کہا تھا کہ زیر حراست افراد اگر گوانتا نامو بے میں رہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ لیکن، میں ترجیح دونگا کہ ان کے لئے دوسرا مقام تلاش کیا جائے۔
امریکی دفاعی حکام گوانتانامو کے متبادل متوقع فوجی جیل تلاش کرنے میں مصروف ہوگئے ،رپورٹ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ہونڈا CD 70 خریدنے والوں کے لیے اہم خبر
-
حج 2027 پیکیجز، پہلی قسط اور اخراجات کی تفصیلات جاری
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)
-
اسکول ہفتے میں 6 روز کھلیں گے ،نوٹیفکیشن جاری
-
پی ٹی آئی رہنما کے قتل میں بڑی پیشرفت، قتل کے ماسٹر مائنڈ کا نام اور وجہ سامنے آگئی
-
متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنا شروع کردیے
-
اوم پوری کی اہلیہ نے شوہر کے ملازمہ سے تعلقات کا انکشاف کردیا
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان
-
واٹس ایپ میں ایک نئی دلچسپ اپ ڈیٹ کر دی گئی
-
غلط ای چالان منسوخ کرانے کا آن لائن طریقہ پنجاب حکومت نے بتا دیا
-
اگر مزید جہازنہیں بھیجاگیا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے، امریکی جنرل
-
ایران توانائی کی تنصیبات پر حملوں کی صورت میں کس کس ملک کو نشانہ بناسکتا ہے؟ نام سامنے آگئے
-
بینک سے سونا غائب کرنے اور 5 کروڑ کے فراڈ کے الزام میں بینک کیشئر سمیت 2 افراد گرفتار
-
اسلام آباد آنے والی پی آئی اے کی پرواز میں ہنگامہ آرائی، 7 مسافر دبئی میں گرفتار



















































