جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

جنوبی ایشیا میں پراکسی وار ختم ہونی چاہئے، امریکی سفیر

datetime 6  جولائی  2015 |

پشاور (نیوزڈیسک) امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کے نتائج انتہائی متاثرکن ہیں‘ اب وقت آگیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پراکسی وار کو اختتام پذیر ہوجانا چاہیے‘ اس سے قطع نظر کہ خطے میں ان جنگوں کے پیچھے کون ہے۔پاکستان کی فوج اورانتظامیہ انتہائی منظم ہیں ‘ داعش کیلئے یہاں جگہ بناناممکن نہیں۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےرچرڈ اولسن نےاعتراف کیا کہ پاک فوج نے آپریشن میں متعدد کامیابیاں حاصل کرلی ہیں‘ہمارا ماننا ہے کہ اس آپریشن کے ذریعے پاکستان آرمی نے دہشت گردوں کو شکست دی ہے جو کہ پاکستان کے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ افغانستان کے لیے بھی فائدے مند ہے‘ آپریشن کے نتائج انتہائی متاثر کن ہیں‘ڈرون حملوں کے سوال پر امریکی سفیر نے کہا کہ کچھ واضح وجوہات کی بنا پر اس قسم کے انسداد دہشت گردی آپریشن پر بات نہیں کرسکتے‘داعش کی موجودگی کے ایک سوال پر رچرڈ اولسن نے کہا کہ داعش کے مسئلے پر انتہائی قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں‘اس مسئلے پر پاکستانی حکام سے بات چیت کی گئی ہے تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کو اب تک یہاں داعش کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے ہیں‘ وسطی ایشیا کی ریاستوں میں داعش کو وہاں کی حکومتوں میں موجود کمزوریوں کے باعث جگہ بنانے میں مدد ملی تاہم پاکستان کے معاملے میں ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ ریاست کی انتظامیہ اور فوج انتہائی منظم ہیں۔



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…