ایک آنکھ،ناک بھی نہیں ۔۔۔ بکری نے عجیب و غریب مخلوق کو جنم دے دیا

  اتوار‬‮ 4 اپریل‬‮ 2021  |  15:15

مکوآنہ (این این آئی )بکری نے عجیب و غریب مخلوق کو جنم دے دیا، ایک بکری نے دو بکروں کو جنم دیا جن میں سے ایک سپیشل بکرا ہے، بکرے کی ایک آنکھ ہے اور وہ بھی پردے میں چھپی ہے جس کی وجہ سے وہ دیکھ نہیں سکتا تاہم پردے کو ہٹانے سے اس کی بینائی لوٹ آتی ہے۔ بکرے کی ایک اور عجیب خاصیت یہ ہے کہ اس کی ناک نہیں ہے ، وہ سانس بھی منہ کے ذریعے ہی لیتا ہے۔بکرے کے مالک بلال رؤف کا کہنا ہے کہ وہ 10 سال سے بکریاں پال رہے ہیں


تاہم آج تک ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، اس طرح کا بکرا انہوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے، عجیب الخلقت میمنے کو دودھ پینے میں بھی خاصی دشواری پیش آتی ہے تاہم مالک کا کہنا ہے کہ وہ اس کو دودھ پلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور پرامید ہیں کہ میمنا جانبر ہوجائے گا۔مالک کا کہنا ہے کہ ننھے مہمان کی آمد پر انہیں بے انتہا خوشی محسوس ہوئی اور وہ دونوں پیدا ہونے والے میمنوں میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں رکھیں گے، وہ جیسا پیار اپنے باقی جانوروں سے کرتے ہیں ویسا ہی اس میمنے سے کریں گے۔دوسری جانب جب بلال رؤف نے ڈاکٹر سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی میمنے کی عمر بہت کم ہے، کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہو گا، عمر کے بڑھنے کیساتھ سرجری یا کوئی دوسرا حل نکالا جائے گا، تاہم ڈاکٹر نے مالک کو ایک آس دلائی ہے کہ اگر بکرا دودھ پیتا رہا تو اس کے بچنے کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔بکرے کی ماں دونوں بچوں میں سے اس بچے کو زیادہ پیار دے رہی ہے کیونکہ کم دودھ پینے کی وجہ سے لال رنگ کے ننھے میمنے کو کھڑا ہونے میں دشواری پیش آرہی ہے۔مالک نے بکرے کا نام بلا رکھا ہے، اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ بکرے کی آنکھیں نیلی ہیں۔


زیرو پوائنٹ

اللہ ہی رحم کرے

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا‘ وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا‘ سارا دن پیالہ اور صراحی اٹھا کر تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا‘ بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا‘ وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ ....مزید پڑھئے‎

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا‘ وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا‘ سارا دن پیالہ اور صراحی اٹھا کر تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا‘ بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا‘ وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ ....مزید پڑھئے‎