جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

بھکاری کی ٹرین کے نیچے آکر ہلاکت ،پولیس نے جب تفتیش کی تو اسکےگھر سے کیاکچھ برآمد ہوا؟اہلکاروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں

datetime 7  اکتوبر‬‮  2019 |

نئی دہلی( آن لائن ) بھارت کے شہر گوانڈی سے تعلق رکھنے 67 سالہ لکھ پتی بھکاری ٹرین حادثے میں جاں بحق ہو گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے جب بھکاری کے حوالے سے اس کے علاقے کے دیگر بھکاریوں سے تحقیقات کا آغاز کیا تو انہیں اس کی جائے رہائش کا پتہ چلا۔بعد ازاں جب وہ اس کی جھونپٹری میں داخل ہوئے تو انہیں وہاں سکوں سے بھرے ہوئے تھیلے اور کچھ رسیدیں برآمد ہوئیں۔پولیس نے میڈیا سے اس ضمن میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں تھیلوں میں موجودسکوں

کو گننے میں قریبا آٹھ گھنٹے کا وقت لگا جن کی مالیت ایک لاکھ 77 ہزار روپے تھی۔انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ بھکاری کے گھر سے آٹھ لاکھ 77 ہزار سے زائد روپے کی رسیدیں ملی ہیں جو اس نے بنک میں جمع کرائی تھیں۔پولیس کو بھکاری کے گھر سے پین کارڈ، ادھار کارڈ اور سینیئر سیٹیزن کارڈ بھی برآمد ہوا ہے جس پر اس کے راجھستان کے گھر کا پتہ لکھا ہوا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جلد راجھستان جا کر بھکاری کے گھر والوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…