منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

چینی ماہرین نے بادلوں کو چیر کر سڑک بنالی، بلند ترین پُل پر گاڑیوں‌کی آمد و رفت کا آغاز

datetime 10  جنوری‬‮  2019 |

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے ماہرین نے جنوبی صوبے میں بلند ترین ایکسپریس وے تیار کرلیا جس پر گاڑیاں بادلوں سے اوپر چلتی ہیں۔ چین کے جنوب مغربی صوبے سیچوان میں تعمیر کیے جانے والے 240 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے بلند و بالا پہاڑی راستے پر بنایا گیا جس پر کثیر لاگت آئی۔ چین کے یاآن اور شی چانگ کے شہروں کو ملانے والے ایکسپریس وے کی یہ سڑک ہر

ایک کلومیٹر کے بعد ساڑھے 24 فٹ بلند ہوجاتی ہے، اس شاہراہ کو یاشی ایکسپریس وے کا نام دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق ایکسپریس وے پر تین ارب ڈالر کی لاگت آئی جبکہ تعمیر میں پانچ سال کا وقت اور انجینیئرز کو شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ چینی ماہرین نے ایکسپریس وے کو زلزلہ پروف بنایا۔ چینی حکومت نے سڑک کو پہلی بار 2012 میں کھولا تھا مگر بعد میں اس کو جدید تعمیر کے لیے بند کردیا تھا۔ قبل ازیں ماہرین گزشتہ برس نے چین اور ہانگ کانگ کے درمیان واقع سمندری راستے پر دنیا کا طویل ترین پُل تعمیر کیا تھا جسے آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ دو ممالک (چین اور ہانگ کانگ) کی حکومتوں نے آمد و رفت کو مزید آسان بنانے کے لیے اس پروجیکٹ پر کام 9 برس قبل شروع کیا تھا پُل کو 2016 میں مکمل ہونا تھا مگر کئی تنازعات کی وجہ سے اس کی تعمیر کے دورانیہ اور بجٹ میں اضافہ ہوا۔ پُل کی تعمیر پر پندرہ کھرب امریکی ڈالر کے اخراجات آئے تھے جبکہ اس کو 9 برس کے عرصے میں مکمل کیا گیا، پروجیکٹ کی تعمیر کے دوران چین اور ہانگ کانگ کے 9 مزدور سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ اسے بھی پڑھیں: شیشے کے فرش والا دنیا کا طویل ترین پل سیاحوں کیلئے کھول دیا گیا پُل کی تعمیر کے بعد چین کا صوبہ مکاؤ اور ہانگ کانگ کے دو مخصوص انتظامی علاقے چین کے مین لینڈ سے جڑ گئی، ماہرین کے مطابق پل کو قانونی اور سیاسی حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ حکام کے مطابق پُل پر

کمرشل گاڑیاں اور مسافر بردار بسیں چلانے کی اجازت ہوگی جبکہ چھوٹی گاڑیوں کے ڈرائیورز کو خصوصی پرمٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ہانگ کانگ یا چین سے پُل کا استعمال کرنے والے افراد کے لیے راستے میں دو امیگریشن مراکز بھی قائم کیے گئے جہاں مسافر اپنی دستاویزات کی جانچ پڑتال کرواتے ہیں۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے شہری سمندری راستے کے ذریعے آمدورفت کرتے تھے جس کی مسافت طے کرنے میں تقریباً چار گھنٹے کا وقت لگتا تھا مگر پُل کی تعمیر کے بعد یہ راستہ 30 منٹ میں طے کرلیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…