ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ایسا آدمی جو انسان سے بکرے کے روپ میں ڈھل جاتا ہے ۔۔۔! انتہائی دلچسپ رپورٹ

datetime 2  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اگر آپ سے کہا جائے کہ چند دن کے لیے آپ اپنی شخصیت کو چھوڑ کر کسی اور کی شخصیت اختیار کریں اور سب کچھ ویسے ہی کریں جیسے وہ کرتا ہے تو یقیناً آپ پریشانی کا شکار ہوجائیں گے۔ یہ کام یقیناً آپ کے لیے مشکل ہوگا کیونکہ اپنی شخصیت کو چھوڑ کر کسی اور کی شخصیت کو اپنانا چاہے وہ کتنا ہی دولت مند اور مشہور شخص کیوں نہ ہو ایک مشکل کام ہے کیونکہ آپ اپنی فطرت سے ہٹ جائیں گے۔ ہر انسان کی فطرت، عادات، مزاج دوسرے شخص سے مختلف ہوتا ہے اور وہ کام کرنا جو ہمارے مزاج سے مطابقت نہ رکھتا ہو ایک نہایت دقیق مسئلہ ہے تو پھر اس برطانوی شخص کی داد دیں جو اپنی شخصیت کو مکمل طور پر چھوڑ کر کسی اور کے روپ میں ڈھل گیا، اور وہ نیا روپ بھی کسی انسان کا نہیں بلکہ جانور کا، یعنی بکری کا تھا۔یقیناً یہ شخص نوبل انعام کا ہی مستحق تھا جو اسے دیا بھی گیا۔ لندن سے تعلق رکھنے والا تھامس تھویٹس دراصل ایک سائنسدان ہے۔ اس نے یہ کام نہ صرف تحقیقی مقصد کے لیے انجام دیا بلکہ اس کا کہنا ہے کہ اس سے اسے ایک روحانی مسرت حاصل ہوئی۔ وہ بتاتا ہے، ’میں اپنے انسان ہونے کی پہچان سے باہر نکلا اور ایک نئے زاویے سے دنیا کو دیکھنا شروع کیا‘۔ تھامس نے مکمل طور پر بکرا بننے کے لیے بکرے جیسا ایک مصنوعی ڈھانچہ بھی تشکیل دیا جس میں سینگوں کی جگہ ایک ہیلمٹ، ہاتھ اور پاؤں کے لیے بکروں جیسی ساخت کے اعضا اور نرم کھال سے بنا ایک کوٹ شامل تھا اور اسے پہن کر یورپ کی الپس پہاڑیوں میں نکل گیا۔ یہ کام تھامس نے تین دن تک انجام دیا اور صرف یہی نہیں 3 دن تک اس نے پتے بھی کھائے۔ تھامس کی اس کاوش پر اسے آئی جی نوبل انعام سے نوازا گیا ہے۔ 1991 سے آغاز کیے جانے والے یہ نوبل انعام ان کارناموں کے لیے دیے جاتے ہیں جو بظاہر تو عجیب و غریب یا کسی حد تک مزاحیہ ہوتے ہیں لیکن درحقیقت ان کے اندر ایک پیغام چھپا ہوتا ہے۔ تھامس نے یہ انعام ہارڈورڈ یونیورسٹی میں نوبل انعام یافتہ ماہرین و سائنسدانوں سے وصول کیا تھامس نے اس تجربے پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا عنوان ہے، ’کس طرح میں نے انسان بننے کے کام سے چھٹی لی‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…