منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

چڑیا گھر کے بیمار رکھوالے کو بستر پر دیکھ کر’ زرافے ‘کا ایسا اقدام جسے دیکھ کر آپ روپڑیں گے

datetime 5  جولائی  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نیدر لینڈز کے چڑیا گھرکا انوکھا واقعہ‘ چڑیا گھر کی رکھوالی کرنے والے شخص کو جان لیوا کینسر لاحق ہوا تو اس نے اپنی آخری خواہش کا اظہار کیا کہ اسے انہی زرافوں کے پاس لیجایا جائے کہ جن کاوہ خیال رکھتا تھا۔تفصیل کے مطابق چڑیا گھر کے رکھوالے کو خطرناک کینسر کا مرض لاحق تھا‘ اسے اس کی آخری خواہش کے مطابق چڑیاگھر میں زرافوں کے پاس لیجایا گیا تو زرافے اس کے پاس آ کر ایک ایسا کام کرنے لگے کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں بھر آئیں۔اخبار دی انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق 54 سالہ ماریو روٹرڈیم کے بیرکارڈ بلیج ڈارپ چڑیاگھر میں ملازمت کرتا تھا، جہاں اس کی ذمہ داری زرافوں کی دیکھ بھال تھی۔
ماریو کو کینسر کی جان لیوا بیماری لاحق ہوئی تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے پاس چند دن باقی رہ گئے ہیں تو ماریو نے زرافوں کو الوداع کہنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ماریو کو زرافوں کے باڑے میں لیجایا گیاتو چند ہی لمحوں میں تمام زرافے اس کے اردگرداکٹھے ہوگئے۔ باڑے میں موجود تمام زرافے محبت بھرے انداز سے ماریو کے چہرے کو چھونے لگے۔عام طور پر جانوروں کو جذبات و احساسات سے عاری سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے‘زرافے بیمار ماریو کو بار بار ماریو کو چومتے اور اس کے گال سہلاتے تھے۔مذکورہ جذباتی مناظر دیکھنے والا کوئی بھی شخص اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکااور ان مناظر کی تصاویر اب کروڑوں انٹرنیٹ صارفین کے دلوں کو چھو رہی ہیں۔
اس موقع پر ادارے ایمبولینس وش فاؤنڈیشن کی بانی کیس ویلڈ بور بھی موجود تھیں۔ انہوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا کہ ’’ان جانوروں نے اسے پہچان لیا تھا، اور انہیں یہ بھی محسوس ہوگیا تھا کہ عمر بھر ان کا خیال رکھنے والے ان کے مہربان دوست کی حالت اچھی نہیں تھی۔ وہ اس طرح محبت اور شفقت کے ساتھ اسے چوم رہے تھے کہ گویا انتہائی غمزدہ دل کے ساتھ اسے الوداع کہہ رہے ہوں۔ یہ بہت ہی خاص لمحے تھے۔ ماریو بہت بیمار تھے اور بولنے کے قابل نہیں تھے، لیکن ان کا چہرہ بہت کچھ کہہ رہا تھا۔ ان کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…