ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ایک ایسا اسلامی ملک جس کے باشندے حج جیسی سعادت حاصل کرنے کیلئے کئی دہائیاں انتظار کرتے ہیں، ایمان افروز معلومات

datetime 3  جولائی  2016 |

انڈونیشیا آبادی کے اعتبار سے دنیا میں سب سے بڑا مسلم ملک ہے۔اس کی کل آبادی قریبا بائیس کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ان میں کی بہت بڑی تعداد فریضہ حج کی ادائیگی کی خواہاں ہے لیکن دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح ہر سال دو سال کے بعد ہی حج کے لیے ان کی باری نہیں آجاتی ہے یا قرعہ اندازی کے ذریعے عازمین حج کا نام نہیں نکلتا بلکہ اس کے لیے انھیں اوسطاً سینتیس برس تک اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔مسلم دنیا کے معروف فلاسفر ،ماہر بشریات اور مورخ علامہ عبدالرحمان ابن خلدون نے ایک نسل کی اوسط عمر چالیس سال بیان کی ہے۔اس طرح انڈونیشی مسلمانوں کی ایک پوری نسل فریضہ حج کی ادائیگی کی منتظر ہے۔انڈونیشیا کی مسلم تنظیم برائے سفرحج اور عمرہ کے چیئرمین جوکو اسمورو کے مطابق اس وقت بتیس لاکھ انڈونیشیوں کے نام حج کی منتظر فہرست میں شامل ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ہر سال ان کے ہم وطنوں کی ایک بڑی تعداد فریضہ حج کی ادائیگی کی خواہاں ہوتی ہے۔اس مقصد کے لیے حکومت نے یہ طریق کار وضع کیا ہے کہ ان عازمین حج کے ناموں کا فہرستوں میں پیشگی اندراج کر لیا جاتا ہے اور پھر ان کی باری پر انھیں حج کے لیے حجاز مقدس روانہ کردیا جاتا ہے۔وہ جدہ میں انڈونیشیا کے قونصل خانے میں افطار کے موقع پر گفتگو کررہے تھے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ حج کے لیے انتظار کی اوسط مدت سینتیس سال ہے۔اس وجہ سے عمرہ کی ادائیگی کے خواہاں افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ ایک تو اس کے اخراجات کم آتے ہیں اور دوسرا اس کے لیے انتظار کی مشقت بھی نہیں اٹھانا پڑتی ہے۔اسمورو نے مزید بتایا کہ انڈونیشیا میں اس وقت ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ ٹریول ایجنسیاں کام کررہی ہیں۔ان میں سے صرف 668 کو انڈونیشی شہریوں کو عمرے کے لیے سعودی عرب بھیجنے کی اجازت ہے اور ان میں سے بھی قریباً دو سو کو سعودی عرب کی وزارت حج اور عمرہ نے حج کے انتظام کی اجازت دے رکھی ہے۔انڈونیشیا سے چار فضائی کمپنیوں کے ذریعے حج اور عمرے کے زائرین کو سعودی عرب لایا اور لے جایا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…