ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

دوست ملک کی 500سال پرانی عجیب و غریب رسم جس کے بارے میں سن کر آپ چکرا اٹھیں گے

datetime 22  جون‬‮  2016 |

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)جنوبی چین میں مقامی اور بین الاقوامی سطح پر تنقید کے باوجود کتوں کے گوشت کا سالانہ میلے کا آغاز ہو گیا ہے۔یولن شہر میں منعقد دس روزہ میلے کے دوران تقریباً دس ہزار کتوں اور بلیوں کو مارنے کے بعد ان کا گوشت کھایا جائے گا۔ادھرسماجی کارکنوں نے کہاہے کہ یہ ایک ظالمانہ تقریب ہے اور اس سال اس تہوار پر پابندی عائد کرنے کے حق میں ایک کروڑ سے زائد افراد نے دستخط کیے ہیں۔جبکہ مقامی حکومت نے کہاہے کہ یہ تہوار سرکاری سطح پر نہیں منایا جاتا بلکہ اس نجی طور پر منعقد کیا جاتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یولن میں منعقد ہونے والے اس میلے میں لوگ کتوں کا گوشت، لیچی پھل اور مقامی شراب چکھنے کے لیے جمع ہوگئے ہیں،چین، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک میں کتوں کا گوشت کھانے کی روایت تقریباً 500 سال پرانی ہے، جہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ گرمیوں کے مہینوں میں یہ فائدہ مند ہوتا ہے۔تہوار سے قبل کتوں کو عموماً چھوٹے چھوٹے پنجروں میں بند رکھا جاتا ہے۔
کچھ تصاویر میں جانوروں کے گلے میں پٹے دیکھے گئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ انھیں چوری کیا گیا ہو۔بہت سارے کتوں کو دوسروں شہروں سے گاڑیوں میں نامناسب حالات میں لاد کر لایا جاتا ہے جس سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے۔ ’سٹاپ یولن فارایور‘ نامی گروپ کا کہنا ہے کہ کتوں کو تہوار کے دنوں میں کھانے اور پانی سے محروم رکھا جاتا ہے۔خیال رہے کہ چین میں کتوں کے گوشت کی بطور انسانی خوراک چین میں فروخت قانونی طور پر جائز ہے، اور ہر سال تقریباً ایک کروڑ کتے انسانی خوراک کے لیے مارے جاتے ہیں۔یولن میں منعقد ہونے والا میلہ مقامی افرا کے لیے باعث فخر ہے، کتوں کے گوشت سے کھانا تیار کرنے والے بہت سارے ریستوران اور شہر میں آنے والے افراد اس میں شرکت کرتے ہیں۔ لیکن ہر سال اس پر تنقید میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
ایک عوامی رائے شماری سے ظاہر ہوتا ہے کہ 16 سے 50 سال کے 64 فیصد افراد اس تہوار پر مکمل پابندی کے حق میں ہیں۔کیپیٹل اینیمل ویلفیئر ایسوسی ایشن نامی تنظیم کے ڈائریکٹر کن شیونا نے کہاکہ یہ شرمندگی کی بات ہے کہ دنیا یہ غلط طور پر سمجھتی ہے کہ یولن تہوار چینی ثقافت کا حصہ ہے، جبکہ ایسا نہیں ہے۔چین میں سماجی رابطے کے ویب سائٹ ویبو پر بھی بہت سارے افراد نے اس تہوار کے خلاف رائے کا اظہار کیا ہے، ایک صارف کا کہنا تھا کہ کتے ’خاندان ہیں، خوراک نہیں۔یولن کی مقامی حکومت نے اس میلے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تہوار سرکاری طور پر نہیں منایا جارہا۔رواں سال اطلاعات کے مطابق کتوں کو سرعام ذبح کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر مشہور ریستورانوں اور بازاروں میں سکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…