جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی لڑکی کی کہانی

datetime 11  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارت میں کم عمری کی شادی محض ایک رواج نہیں بلکہ وباءہے اور ایک اندازے کے مطابق اس ملک میں ہر پانچ میں سے ایک دلہن کی شادی بچپن میں ہوتی ہے، لیکن ا س کے باوجود عوام اور حکام نے اس مسئلے پر خاموشی اختیار کررکھی تھی۔ حال ہی میں جب ریکھا کا لیندی نامی لڑکی نے اپنی دردناک کہانی ایک کتاب کی صورت میں شائع کی تو اچانک سویا ہوا بھارتی معاشرہ ہڑبڑا کر اٹھا اور سارے ملک میں کم عمری کی شادی کے خلاف آواز اٹھنے لگی۔

ریکھا نے اپنی کتاب “The Strength to Say No” میں لکھا کہ جب وہ محض 11 سال کی تھیں تو ان کے گھر والوںنے ان کی شادی کا فیصلہ کرلیا۔ اگرچہ ان کے ہاں بچپن کی شادی کا رواج نسلوں سے چلا آرہا تھا مگر انہوں نے ہمت کی اور شادی سے انکار کردیا، جس کی انہیں خوفناک سزا بھگتنا پڑی۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی بڑی بہن کی شادی 12 سال کی عمر میں ہوچکی تھی اور جب وہ 11 سال کی تھیں تو ان کی شادی کی تیاریاں بھی شروع ہوگئیں۔ جب انہوں نے انکار کیا تو ان کی اپنی ماں نے ہی انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور لاٹھی سے اس قدر پیٹا کہ وہ چیخ اٹھیں۔ بات اسی پر ختم نہ ہوئی بلکہ انہیں کھانے سے محروم کرکے بھوکا مرنے کیلئے چھوڑ دیا گیا۔ ریکھا نے حیرت انگیز ہمت کا ثبوت دیتے ہوئے تمام تر تشدد کے باوجود شادی سے انکار کردیا تو بالآخر ایک ٹیچر کی مداخلت سے اس معصوم لڑکی کی جان خلاصی ہوئی اور شادی کی بجائے سکول جانے کی اجازت مل گئی۔

ریکھا کی کتاب شائع ہونے کے بعد گویا سارا بھارت ان کی آواز میں آواز ملارہا ہے اور ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ #strengthtosayno کے ذریعے ہزاروں لوگ کم عمری کی شادی کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…