پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

بھارتی لڑکی کی کہانی

datetime 11  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارت میں کم عمری کی شادی محض ایک رواج نہیں بلکہ وباءہے اور ایک اندازے کے مطابق اس ملک میں ہر پانچ میں سے ایک دلہن کی شادی بچپن میں ہوتی ہے، لیکن ا س کے باوجود عوام اور حکام نے اس مسئلے پر خاموشی اختیار کررکھی تھی۔ حال ہی میں جب ریکھا کا لیندی نامی لڑکی نے اپنی دردناک کہانی ایک کتاب کی صورت میں شائع کی تو اچانک سویا ہوا بھارتی معاشرہ ہڑبڑا کر اٹھا اور سارے ملک میں کم عمری کی شادی کے خلاف آواز اٹھنے لگی۔

ریکھا نے اپنی کتاب “The Strength to Say No” میں لکھا کہ جب وہ محض 11 سال کی تھیں تو ان کے گھر والوںنے ان کی شادی کا فیصلہ کرلیا۔ اگرچہ ان کے ہاں بچپن کی شادی کا رواج نسلوں سے چلا آرہا تھا مگر انہوں نے ہمت کی اور شادی سے انکار کردیا، جس کی انہیں خوفناک سزا بھگتنا پڑی۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی بڑی بہن کی شادی 12 سال کی عمر میں ہوچکی تھی اور جب وہ 11 سال کی تھیں تو ان کی شادی کی تیاریاں بھی شروع ہوگئیں۔ جب انہوں نے انکار کیا تو ان کی اپنی ماں نے ہی انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور لاٹھی سے اس قدر پیٹا کہ وہ چیخ اٹھیں۔ بات اسی پر ختم نہ ہوئی بلکہ انہیں کھانے سے محروم کرکے بھوکا مرنے کیلئے چھوڑ دیا گیا۔ ریکھا نے حیرت انگیز ہمت کا ثبوت دیتے ہوئے تمام تر تشدد کے باوجود شادی سے انکار کردیا تو بالآخر ایک ٹیچر کی مداخلت سے اس معصوم لڑکی کی جان خلاصی ہوئی اور شادی کی بجائے سکول جانے کی اجازت مل گئی۔

ریکھا کی کتاب شائع ہونے کے بعد گویا سارا بھارت ان کی آواز میں آواز ملارہا ہے اور ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ #strengthtosayno کے ذریعے ہزاروں لوگ کم عمری کی شادی کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…