پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

کمپیوٹر کے ناکارہ پرزے ڈھلے خوش رنگ تتلیوں میں!

datetime 28  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )تخلیقی ذہن رکھنے والے لوگ ناکارہ سمجھ کر پھینک دی جانے والی چیزوں کو بھی کام میں لے آتے ہیں۔ برطانیہ کی رہائشی جولی ایلائس چیپل بھی تخلیقی ذہن کی مالک ایک فن کارہ ہے۔ وہ کمپیوٹر کے ناکارہ سرکٹ بورڈ اور پرزوں کی مدد سے خوب صورت تتلیاں تخلیق کرتی ہے کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ جولی ایلائس ناکارہ برقیاتی پرزوں کو اتنی مہارت سے تتلیوں میں ڈھالتی ہے کہ ان پر حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔فن کے اس منفرد رخ سے جولی کا تعارف کئی برس پہلے ہوا تھا جب اسے ایک کباڑیے کی دکان میں چھوٹے چھوٹے برقیاتی پرزوں سے بھرا ہوا ڈبا نظر آیا۔ ڈبے میں رکھے ہوئے رنگ برنگے پرزے جولی کو بہت بھلے لگے اور وہ انھیں خرید کر گھر لے آئی۔ جولی نے اپنے بچوں کے ساتھ مل کر کچھ پرزوں کو چیونٹیوں کی شکل دی۔ چند روز کے بعد وہ ڈبا الماری میں رکھ کر بھول گئی۔کچھ عرصے کے بعد جولی نے فائن آرٹس میں گریجویشن کرنے کی ٹھانی۔ پڑھائی کے دوران اس کی ملاقات کچھ ایسے طلبا سے ہوئی جو کمپیوٹروں کے پرانے سرکٹ بورڈوں سے روبوٹ بنانے میں لگے ہوئے تھے مگر کام یاب نہ ہوسکے۔ انھیں دیکھ کر جولی کو برقیاتی پرزوں سے خوب صورت اسٹرکچر تیار کرنے کا خیال آیا۔ جولی ان طالب علموں سے ناکارہ سرکٹ بورڈ لے کر گھر آگئی۔بورڈ اور اس پر نصب مختلف رنگوں کے پرزے دیکھ کر وہ سوچنے لگی کہ انھیں کس طرح آرٹ کے نمونوں کی شکل دی جاسکتی ہے۔ اس وقت جولی کے ذہن میں کچھ عرصہ پہلے بنائی گئی چیونٹیاں بھی تازہ ہوگئیں۔ پھر حشرات الارض پر ایک ٹیلی ویژن پروگرام دیکھتے ہوئے اس نے سرکٹ بورڈز اور پرزوں سے کیڑے مکوڑے بنانے کا فیصلہ کرلیا۔جولی نے عزم کرلیا تھا کہ وہ ناکارہ سرکٹ بورڈز اور پرزوں کو آرٹ کے ایسے نمونوں میں تبدیل کرے گی کہ دیکھنے والے حیران رہ جائیں گے۔ اس نے اپنے پروجیکٹ کو Computer Component Bugs کا نام دیا اور اپنے مقصد کی تکمیل میں جت گئی۔ چند ہی روز کے بعد اس کے مخصوص کمرے میں ہر طرف خوش رنگ تتلیاں، پتنگے اور بھنورے بکھرے ہوئے تھے۔پتنگوں اور بھنوروں سے زیادہ تتلیاں دل کش اور اصل سے قریب تر تھیں۔ اس لیے جولی نے زیادہ توجہ تتلیوںکی تخلیق پر دینی شروع کردی۔ جب اس نے اپنے کام کی نمائش کی تو دیکھنے والے حیران رہ گئے۔ انھوں نے جولی کے کام کو بے حد سراہا۔جولی کا کہنا ہے اس پروجیکٹ کا مقصد برقیاتی فضلے کی بڑھتی ہوئی مقدار کے بارے میں آگاہی پھیلانا ہے جس سے ماحول کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…