ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

آنکھوں کو لبھانے والی کیوں لکھا،بھارتی بیوروکریٹ کا مشہور رسالے آئوٹ لک پر مقدمہ

datetime 3  جولائی  2015 |

نئی دہلی(نیوزڈیسک)بھارت کی ایک بیوروکریٹ نے مشہور رسالے آٹ لک پر ان کو آنکھوں کو لبھانے والی (eye candy) سرکاری ملازم کہنے پر مقدمہ کر دیا ہے۔اس رسالے نے سرکاری ملازم سمیتا سابھرول کا ایک کارٹون بھی چھاپا ہے جس میں وہ ماڈلنگ کر رہی ہیں اور ان کے سیاستدان ان کو ہوس بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔سمیتا سابھرول تلنگانا ریاست کے وزیر اعلی کے دفتر میں کام کرتی ہیں۔انھوں نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رسالے کی جانب سے آنکھوں کو لبھانے والی کے طور پر پیش کرنا جنسی تعصب ہے۔دوسری جانب آٹ لک میگزین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو ابھی تک کوئی قانونی نوٹس نہیں ملا۔میگزین نے اپنے تازہ شمارے میں سمیتا کا نام لیے بغیر لکھا ہے: وہ دلکش ساڑھیاں پہنتی ہیں اور اجلاسوں کے دوران آنکھوں کو لبھاتی ہیں۔ اس رسالے نے مزید لکھا ہے کہ ان کی قابلیت ایک راز ہے اور ان کا کام ایک معمہ ہے۔سمیتا کا کہنا ہے کہ رسالے میں چھپنے والا کارٹون ان کی جانب سے حیدرآباد میں ایک فیشن شو میں حصہ لینے کے موقعے پر لیا گیا تھا۔سمیتا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: جس بات سے مجھے تکلیف ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ رسالے میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ایک عورت اپنی خوبصورتی کی وجہ سے کریئر میں ترقی کر سکتی ہے۔ یہ ان تمام خواتین کے حوصلے پست کرتا ہے جو اپنا کریئر بنانے کے لیے اپنے گھروں سے باہر قدم رکھتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آٹ لک میگزین کا رویہ جنسی تعصب پر مبنی ہے جس سے انھیں تکلیف ہوئی ہے اور میگزین ان سے معافی مانگے۔سرکاری ملازمت کرتے ہوئے 14 سال ہو گئے ہیں اور خوبصورت ہونے پر کبھی بھی تعصب کا شکار نہیں ہوئی اور نہ ہی نیچی دکھائی گئی ہوں۔ لیکن اب جب میں پہلی خاتون بن گئی ہوں جس کی تقرری وزیر اعلی کے دفتر میں ہوئی ہے تو اس کا مجھے سامنا کرنا پر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…