ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

جاپان میں جوڑے نے کچھوے کو اولاد بنالیا

datetime 16  جون‬‮  2015 |

ٹوکیو(نیوزڈیسک)پالتو کتے کی زنجیر ہاتھ میں پکڑ کر مٹرگشت کرتے ہوئے لوگ تو آپ نے دیکھے ہوں گے، مگر کیا کبھی کسی کو کچھوے کی ہمراہی میں چہل قدمی کے لیے نکلتے ہوئے دیکھا ہے؟ جاپانی دارالحکومت، ٹوکیو کے رہائشی کئی برس سے یہ حیران ک±ن نظارہ دیکھ رہے ہیں۔انھیں ہر روز ایک ادھیڑ شخص اپنے پالتو کچھوے کے ساتھ سڑکوں پرچہل قدمی کرتا نظر آتا ہے۔ اس شخص کا نام متانی ہساو ہے۔ وہ معاوضہ لے کر مردوں کی آخری رسومات انجام دیتا ہے۔ متانی کے مطابق خشکی پر رہنے والا یہ قوی الجثہ کچھوا ) tortoise) انیس برس سے اس کے ساتھ ہے۔ متانی اور اس کی بیوی نے یہ کچھوا ایک دکان سے خریدا تھا۔ اس وقت یہ بچہ تھا اور اس کی لمبائی محض پانچ سینٹی میٹر تھی۔ متانی اور اس کی بیوی اولاد سے محروم تھے رفتہ رفتہ انھیں کچھوے سے اتنی انسیت ہوگئی کہ وہ اسے اپنی اولاد سمجھنے لگے۔ انھوں نے اس کا نام بون چان رکھ دیا۔ یہ نام انھوں نے اپنے بچے کے لیے سوچ رکھا تھا مگر قدرت نے انھیں موقع نہیں دیا کہ وہ اپنی اولاد کو اس نام سے پکارتے۔متانی اور اس کی بیوی دل بہلانے کے لیے کوئی جانور خریدنے اس دکان میں داخل ہوئے تھے جب یہ چھوٹا سا کچھوا ان کے دل کو بھا گیا۔ لیکن انھیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ننھا سا کچھوا اتنا بڑا ہوجائے گا۔ بون چان کے جسم کا پھیلاو 75 سینٹی میٹر اور وزن 70 کلوگرام ہے!۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہساو اور اس کے پالتو کچھوے کے درمیان تعلق مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ اور اب، ہساو کے بقول، ان کے درمیان بہت اچھی ذہنی ہم آہنگی قائم ہوچکی ہے۔ دونوں باقاعدگی سے ’ چہل قدمی‘ کے لیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ہساو اسے رنگین ’ لباس‘ پہناکر بھی ساتھ لے جاتا ہے۔ ہساو کا کہنا ہے کہ گھر میں صرف بون ہی اس کی بات سنتا اور سمجھتا ہے۔ ہساو¿ جیسے ہی بون کا نام لیتا ہے، وہ چلتا ہوا اس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ متانی مسکراتے ہوئے کہتا ہے کہ کچھوا اس کے بہت سے رازوں سے بھی واقف ہے۔ اور اگر یہ بول سکتا تو وہ ( متانی) مشکل میں پڑجاتا۔متانی پالتو کچھوے کو ہفتے میں دو سے تین بار چہل قدمی کے لیے لے جاتا ہے۔ کچھوے کو باہر کی سیر بہت پسند ہے۔ ان کا راستہ طے شدہ ہے۔ مقررہ روٹ پر چلتے ہوئے وہ قریباً ڈیڑھ گھنٹے میں واپس گھر پہنچتے ہیں۔ کچھوے کی سست رفتاری مشہور ہے، مگر متانی کا کہنا ہے کہ بون اتنا سست رفتار نہیں ہے۔ پھر یہ کہ وہ خود بھی جلدباز نہیں۔ یوں دونوں ساتھی چہل قدمی سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔علاقے میں ان کی جوڑی بہت مقبول ہوچکی ہے۔ چہل قدمی کرتے ہوئے متانی کے ہاتھ میں کپڑے کا تھیلا بھی ہوتا ہے۔ اس میں بون کے لیے چند گاجریں اور بندگوبھی ہوتی ہے۔ کبھی کبھار متانی، بون کو اپنی جائے کار پر بھی لے جاتا ہے۔ بون کو دیکھ کر مردے کے اداس لواحقین کے چہروں پر بھی مسکراہٹ دوڑ جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…