ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

خونخوار شیرنی جس کےلئے فوج بلوانی پڑ گئی

datetime 7  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) جنگلی درندے انسان کے لئے ہمیشہ سے ہی بڑا خطرہ رہے ہیں لیکن نیپال اور بھارت میں تباہی مچانے والی ایک شیرنی نے انسانوں کی اتنی بڑی تعداد کو ہلاک کیا کہ اس کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل ہوگیا۔”چمپا وات کی شیرنی“ نے 19 ویں صدی کے اواخر میں ہمالیہ کے پہاڑوں میں نیپال کے قریبی علاقوں میں حملوں کا آغاز کیا۔ جنگلوں میں سفر کرنے والے درجنوں دیہاتیوں کو اس نے چیر پھاڑ ڈالا۔ اسے مارنے کے لئے کئی شکاریوں کو بھیجا گیا لیکن یہ کسی کے قابو میں نہ آئی اور بالآخر اسے مارنے کے لئے نیپالی فوج بلوالی گئی۔ نیپالی فوج اسے مارنے میں تو ناکام رہی البتہ یہ سرحد پار کرتی ہوئی بھارتی علاقے میں داخل ہوگئی جہاں اس نے کوماﺅں ضلع میں انسانوں پر حملے جاری رکھے۔ رفتہ رفتہ اس شیرنی کی خونخواری اس قدر بڑھ گئی کہ یہ دن کی روشنی میں بھی دیہاتوں میں داخل ہوجاتی اور لوگوں پر حملہ کردیتی۔ اس کی دہشت اس قدر پھیلی کہ لوگوں نے گھروں سے باہر نکلنا بند کردیا اور ملازموں نے کام پر جانا چھوڑ دیا۔
1907ءمیں چمپا وات گاﺅں کی ایک 16 سالہ لڑکی کو اس شیرنی نے ہلاک کیا اور اس کے مردہ جسم کو کھینچتی ہوئی جنگل میں لے گئی۔ اس کے قدموں کے نشانات اور خون کی لکیر کا تعاقب کرتے ہوئے برطانوی شکاری جم کوربیٹ نے جنگل میں پہنچ کر اسے ہلاک کردیا۔ اس واقعے کی خبر سن کر ہزاروں کی تعداد میں دیہاتی جمع ہوگئے اور خوفناک درندے سے نجات پر شکر ادا کیا۔ شیرنی کے پوسٹمارٹم سے معلوم ہوا کہ اس کے بالائی اور زیریں جبڑے کا ایک ایک دانت ٹوٹا ہوا تھا جس کی وجہ سے یہ جنگلی جانوروں کا شکار نہیں کرسکتی تھی اور غالباً اسی بات نے اسے انسانوں کے شکار کی راہ دکھائی۔ چمپا وات قصبے میں چتار پل کے قریب آج بھی اس جگہ ایک پتھر نصب ہے جہاں 430 انسانوں کو ہلاک کرنے والی شیرنی کو ہلاک کیا گیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…