منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

چین : جس میلے کا تھا انتظار اب وہ میلا۔۔۔۔۔۔

datetime 5  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیو ڈیسک ) ہر ملک اور ہر قوم اپنے کچھ مخصوص تہوار مناتی ہے جو اس کی تہذیب و ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔ باقی دنیا کی طرح چین میں بھی کئی قومی تہوار منائے جاتے ہیں جن میں سب سے بڑا اور رنگا رنگ تہوار نئے چینی سال کے آغاز پر منایا جاتا ہے۔لیکن آپ شاید جان کر حیران ہوں کہ چین میں ایک تہوار ایسا بھی منایا جاتا ہے جس میں ہزاروں کتوں اور بلیوں کا گوشت کھایا جاتا ہے۔
یہ تہوار وسطی چین کے علاقے یولن میں کئی دہائیوں سے ہر سال منایا جا رہا ہے۔ چینی باشندوں اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے سخت احتجاج پر گزشتہ سال مقامی حکام کی طرف سے اس کریہہ تہوار پر پابندی عائد کی گئی تھی لیکن اس سال بھی اس کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں اور یہ 22نومبر کو منایا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس تہوار میں چوری شدہ کتوں اور بلیوں کا گوشت کھایا جاتا ہے۔یہ کتے اور بلیاں دور دراز کے علاقوں سے چوری کر کے لائے جاتے ہیں، ان میں سے اکثر راستے میں ہی بھوک اور پیاس سے مر جاتے ہیں، بچ جانے والوں کو پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا جاتا ہے یا ان کے گلے پر چھری پھیر دی جاتی ہے۔ ”ہیومن سوسائٹی انٹرنیشنل“ نامی تنظیم اس حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے، تنظیم کے سربراہ پیٹر لی کا کہنا ہے کہ ملک بھر سے کتوں اور بلیوں کو چھوٹے چھوٹے پنجروں میں قید کر کے یولن لایا جا رہا ہے، پنجرے اس قدر تنگ ہوتے ہیں

news-1433260440-7322

کہ جانور اس میں کھڑے بھی نہیں ہو سکتے۔پیٹر لی نے کہا کہ ان جانوروں کو رات کے اندھیرے میں کاٹا جارہا ہے اور ہوٹلوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے مینیو سے ”ڈاگ میٹ“ کے الفاظ ہٹا دیں تاکہ یہ تہوار خفیہ طور پر منایا جا سکے اور حکام کو خبر نہ ہو۔ مقامی حکام بظاہر اس تہوار پر پابندی لگانے کے تاثرات دے رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ درپردہ وہ اس تہوار کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…