کراچی(این این آئی) گھر میں پکوڑے، سموسے، فرائز اور دیگر اشیا تلنے کے بعد اکثر خاصی مقدار میں کھانا پکانے کا تیل بچ جاتا ہے۔
مناسب طریقے سے صاف اور محفوظ کیا جائے تو بعض صورتوں میں اس تیل کو دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم اس کے لیے صفائی اور ذخیرہ کرنے کے درست طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔استعمال شدہ تیل کو فوری طور پر گرم حالت میں کسی برتن میں منتقل کرنے کے بجائے پہلے مکمل طور پر ٹھنڈا ہونے دینا چاہیے۔ ٹھنڈا ہونے کے بعد تیل میں موجود کھانے کے ذرات اور جلے ہوئے ٹکڑوں کو باریک چھلنی یا صاف کپڑے کی مدد سے الگ کرلینا بہتر ہے، کیونکہ یہ ذرات تیل کے معیار کو متاثر کرسکتے ہیں۔تیل کی مزید صفائی کے لیے بعض گھریلو طریقے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ٹھنڈے تیل میں تھوڑی مقدار میں میدہ شامل کرکے کچھ دیر چھوڑنے کے بعد اسے دوبارہ باریک چھلنی یا صاف کپڑے سے چھانا جاسکتا ہے تاکہ باریک ذرات بھی الگ ہوجائیں۔ اسی طرح لیموں کے چند سلائسز بھی استعمال شدہ تیل میں کچھ دیر کے لیے ڈالے جاسکتے ہیں، جس کے بعد تیل کو اچھی طرح چھان کر محفوظ کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق صاف کیے گئے تیل کو کسی ایسے برتن میں رکھنا چاہیے جو اچھی طرح بند ہوسکے تاکہ ہوا اور نمی اس میں داخل نہ ہو۔ تیل کو براہِ راست دھوپ یا تیز روشنی سے بھی محفوظ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ روشنی اس کے معیار کو متاثر کرسکتی ہے۔اسی طرح استعمال شدہ تیل کو چولہے، اوون یا کسی دوسری گرم جگہ کے قریب رکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ زیادہ درجہ حرارت تیل کے خراب ہونے کے عمل کو تیز کرسکتا ہے، اس لیے اسے نسبتاً ٹھنڈی اور تاریک جگہ پر رکھنا بہتر ہے۔تاہم ہر استعمال شدہ تیل کو دوبارہ استعمال کرنا مناسب نہیں۔ اگر تیل کا رنگ بہت زیادہ گہرا ہوجائے، اس میں غیر معمولی بو پیدا ہوجائے،
وہ معمول سے پہلے دھواں دینے لگے یا اس کی ساخت میں واضح تبدیلی محسوس ہو تو اسے دوبارہ کھانے پکانے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے ضائع کردینا زیادہ محفوظ ہے۔گھریلو سطح پر تیل کو محفوظ رکھنے کے ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ اسے بار بار استعمال کرنے سے اس کا معیار بتدریج متاثر ہوسکتا ہے۔ اس لیے تیل کی حالت، استعمال کی نوعیت اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے کہ اسے دوبارہ استعمال کیا جائے یا نہیں۔



















































