منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

استعمال شدہ کوکنگ آئل کو دوبارہ استعمال کے لیے محفوظ رکھنے کے آسان طریقے

datetime 22  اگست‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی) گھر میں پکوڑے، سموسے، فرائز اور دیگر اشیا تلنے کے بعد اکثر خاصی مقدار میں کھانا پکانے کا تیل بچ جاتا ہے۔

مناسب طریقے سے صاف اور محفوظ کیا جائے تو بعض صورتوں میں اس تیل کو دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم اس کے لیے صفائی اور ذخیرہ کرنے کے درست طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔استعمال شدہ تیل کو فوری طور پر گرم حالت میں کسی برتن میں منتقل کرنے کے بجائے پہلے مکمل طور پر ٹھنڈا ہونے دینا چاہیے۔ ٹھنڈا ہونے کے بعد تیل میں موجود کھانے کے ذرات اور جلے ہوئے ٹکڑوں کو باریک چھلنی یا صاف کپڑے کی مدد سے الگ کرلینا بہتر ہے، کیونکہ یہ ذرات تیل کے معیار کو متاثر کرسکتے ہیں۔تیل کی مزید صفائی کے لیے بعض گھریلو طریقے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ٹھنڈے تیل میں تھوڑی مقدار میں میدہ شامل کرکے کچھ دیر چھوڑنے کے بعد اسے دوبارہ باریک چھلنی یا صاف کپڑے سے چھانا جاسکتا ہے تاکہ باریک ذرات بھی الگ ہوجائیں۔ اسی طرح لیموں کے چند سلائسز بھی استعمال شدہ تیل میں کچھ دیر کے لیے ڈالے جاسکتے ہیں، جس کے بعد تیل کو اچھی طرح چھان کر محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق صاف کیے گئے تیل کو کسی ایسے برتن میں رکھنا چاہیے جو اچھی طرح بند ہوسکے تاکہ ہوا اور نمی اس میں داخل نہ ہو۔ تیل کو براہِ راست دھوپ یا تیز روشنی سے بھی محفوظ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ روشنی اس کے معیار کو متاثر کرسکتی ہے۔اسی طرح استعمال شدہ تیل کو چولہے، اوون یا کسی دوسری گرم جگہ کے قریب رکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ زیادہ درجہ حرارت تیل کے خراب ہونے کے عمل کو تیز کرسکتا ہے، اس لیے اسے نسبتاً ٹھنڈی اور تاریک جگہ پر رکھنا بہتر ہے۔تاہم ہر استعمال شدہ تیل کو دوبارہ استعمال کرنا مناسب نہیں۔ اگر تیل کا رنگ بہت زیادہ گہرا ہوجائے، اس میں غیر معمولی بو پیدا ہوجائے،

وہ معمول سے پہلے دھواں دینے لگے یا اس کی ساخت میں واضح تبدیلی محسوس ہو تو اسے دوبارہ کھانے پکانے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے ضائع کردینا زیادہ محفوظ ہے۔گھریلو سطح پر تیل کو محفوظ رکھنے کے ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ اسے بار بار استعمال کرنے سے اس کا معیار بتدریج متاثر ہوسکتا ہے۔ اس لیے تیل کی حالت، استعمال کی نوعیت اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے کہ اسے دوبارہ استعمال کیا جائے یا نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…