پیر‬‮ ، 22 جون‬‮ 2026 

کورونا کا زیادہ عرصہ مریض رہنے والے افراد روزے نہ رکھیں، ماہر ڈاکٹر کی ہدایات

datetime 9  اپریل‬‮  2021 |

ابوظہبی (این این آئی )متحدہ عرب امارات میں نظام تنفس کے امراض کے ماہر ایک ڈاکٹر نے کووِڈ19 کی علامات کا زیادہ عرصہ شکار رینے والے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس مرتبہ ماہ رمضان میں روزہ نہ رکھیں۔عرب ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹر محمد حارث کا کہنا تھا کہ جنوری کے بعد سے متحدہ عرب امارات میں

کروناوائرس کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں ایک مرتبہ پھراضافہ ہوا ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ اب زیادہ لوگ کووِڈ-19 کے مرض کی پیچیدگیوں کا شکارہورہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جو لوگ کووِڈ19کا شکار ہوکر شدید بیماررہے ہیں،انھیں اسپتال داخل کرنا پڑا ہے یااس وقت نقاہت کا شکار ہیں تو انھیں روزہ رکھتے وقت زیادہ محتاط ہونا چاہیے لیکن ان بیمار افراد کے مقابلے میں اگر صحت مند افراد روزہ رکھتے ہیں تو اس سے ان کی کرونا وائرس سے مقابلے کے لیے قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوگا۔شارجہ سے تعلق رکھنے والے سانس ،ناک اور گلہ کے ماہرامراض نے بتایا کہ اس مرتبہ رمضان میں کووِڈ19 کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں گذشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ اضافے کا امکان نہیں کیونکہ 2020میں تو دنیا بھر میں اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا رجحان تھا اور اس کے مریض بڑھ رہے تھے۔البتہ انھوں نے شہریوں کو تلقین کی کہ وہ اجتماعی افطار یاعوامی اجتماعات میں جانے سے گریز کریں اور اس ضمن میں حکومت کی عاید کردہ پابندیوں کی پاسداری کریں۔سحر اور افطار کے وقت اپنی خوراک کا خاص خیال رکھیں اور صرف قوت بخش کھانے کھائیں۔ڈاکٹر حارث کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال کے برعکس اس مرتبہ بعد ازکووِڈ ہمارے پاس ایسے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے جو قوتِ

مدافعت کے اعتبار سے کمزور ہیں۔ان کے پھیپھڑے کم زور ہیں یا ان کے جسم کے دوسرے حصوں میں پیچیدگیاں پائی جارہی ہیں۔اس لیے میرے خیال میں ایسے لوگوں کے لیے بہتر یہ ہوگا کہ وہ روزے نہیں رکھیں کیونکہ وہ پانی کی کمی اور نقاہت کا شکار ہوسکتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ صحت مند افراد کے لیے روزہ سود مند ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ بعض مطالعات میں یہ ثابت ہوا ہے کہ روزے سے قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کی شرط یہ ہے کہ

روزہ دار پھل ، سبزیاں اور وٹامن ڈی کی حامل خوراک اکا زیادہ ستعمال کریں تو اس سے انھیں فائدہ ہوگا۔ڈاکٹرحارث نے یو اے ای میں کرونا وائرس سے بچا کے لیے ویکسین لگانے کی مہم کے پیش نظر یہ پیشین گوئی کی ہے کہ 2022 کا رمضان اس مرتبہ سے بالکل مختلف ہوگا اور فطری رجحان کے مطابق آیندہ سال تک کروناوائرس کے کیسوں کا خاتمہ ہوچکا ہوگا اورہم ایک مختلف رمضان گزاریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…