بدھ‬‮ ، 06 مئی‬‮‬‮ 2026 

دنیا کی ایک چوتھائی آبادی 2022 تک کووڈ ویکسینز حاصل نہیں کرسکے گی،دوران تحقیق اہم انکشافات

datetime 17  دسمبر‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)دنیا کی لگ بھگ ایک چوتھائی آبادی کو نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے تحفظ فراہم کرنے والی ویکسینز تک رسائی 2022 سے قبل نہیں مل سکے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں بتائی گئی۔امریکا کی جونز ہوپکنز بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی

تحقیق میں کووڈ 19 ویکسینز کے پری آرڈرز کا تجزیہ کیا گیا جو ریگولیٹری منظوری سے قبل مختلف ممالک نے دیئے۔15 نومبر 2020 تک متعدد ممالک نے 13 مختلف کمپنیوں کی ویکسینز کے 7 ارب 48 کروڑ ڈوز اپنے لیے مختص کرالیے تھے۔ان میں سے 51 فیصد ڈوز امیر ممالک نے بک کرائے تھے جو عالمی آبادی کے 14 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔اس کے نتیجے میں غریب اور متوسط ممالک ویکسینز کے حصول میں پیچھے رہ جایں گے حالانکہ ان میں دنیا کی 85 فیصد سے زیادہ آبادی مقیم ہے۔اگر یہ تمام ویکسینز کامیاب ہوگی تو 2021 کے اختتام تک ان کو تیار کرنے والی کمپنیاں 5 ارب 96 کروڑ ڈوز تیار کرسکیں گی، جن کی قیمتیں 6 ڈالر سے 74 ڈالر تک ہوگی۔اتنے ڈوز میں سے 40 فیصد غریب اور متوسط ممالک کو دتیاب ہوں گے، تاہم اس کا انحصار اس پر ہوگا کہ امیر ممالک اپنی خریدی گئی ویکسین کو دیگر سے شیئر کرتے ہیں اور امریکا و روس کس حد تک عالمی کوششوں کا حصہ بنتے ہیں۔محققین نے اس

نکتے کی جانب بھی توجہ دلائی کہ اگر تمام ویکسین کمپنیاں زیادہ سے زیادہ ڈوز تیار کرنے میں بھی کامیاب رہی تو بھی عالمی آبادی تک ویکسینز کی رسائی 2022 تک ممکن نہیں ہوسکے گی۔انہوں نے کہا کہ تحقیق میں بتایا گیا کہ کس طرح امیر ممالک کووڈ 19 کی مستقبل کی سپلائیز کو حاصل کررہے ہیں۔

جبکہ باقی ممالک تک ان کی رسائی غیریقینی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومتوں اور کمپنیوں کو کووڈ 19 ویکسینز کی مساوی بنیادوں پر فراہمی کی یقین دہانی کرانی چاہیے اور اس حوالے سے شفافیت اور احتساب کا خیال رکھا جانا چاہیے۔اس جریدے میں امریکا اور چین کے ماہرین کی ایک تحقیق

میں شائع ہوئی جس میں تخمینہ لگایا گیا تھا کہ عالمی سطح پر کتنی آبادی اس ویکسین کو استعمال کے لیے تیار ہوجائے گی۔تحقیق میں تخمینہ لگایا گیا کہ دنیا بھر میں 3 ارب 70 کروڑ سسے زیادہ بالغ افراد (مجموعی آبادی کا 68 فیصد حصہ)کووڈ 19 ویکسین لینے کے رضامند ہوں گے۔

تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا کہ ویکسین کی تیاری کی طرح اس کی فراہمی کے پروگرام بھی چیلنج سے بھرپور ثابت ہوں گے۔یہ دونوں تحقیقی رپورٹس مشاہداتی تھیں اور محققین نے تسلیم کیا کہ ان کے تجزیوں کے نتائج میں تفصیلات نامکمل ہوسکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)


ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…