منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس کی وجہ سے کتنے پاکستانی ذہنی دبائو کا شکار ہیں؟ تحقیق میں انکشاف

datetime 14  جولائی  2020 |

کراچی (این این آئی)آغا خان یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق کووڈ 19 کے دوران ہر 4 میں سے 3 پاکستانی درمیانے سے اعلیٰ درجے کے ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔کووڈ 19 میں ذہنی صحت سے متعلق تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ہر 3 میں سے ایک شخص شدید اضطراب میں مبتلا ہے۔کمیونٹی ہیلتھ سائنسز (سی ایچ ایس) کے شعبہ تحقیق نے اپریل اور مئی کے درمیان 373 جواب دہندگان سے ایک آن لائن سروے کیا۔کووڈ 19 میں لوگوں کی

اضطرابی کیفیت، تناؤ یا دونوں حالتوں کو سمجھنے کے لیے تحقیق کی گئی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ سروے میں شامل ہر 10 شرکا میں سے 8 افراد نے تشویش کا اظہار کیا کہ ان کے چاہنے والوں کو کورونا وائرس نہ ہوجائے۔علاوہ ازیں تحقیق میں بتایا گیا کہ 36 فیصد شرکا نے کہا کہ انہیں وائرس میں مبتلا ہونے کا شدید خوف ہے۔سی ایچ ایس کے محکمہ کی چیئر مین پروفیسر ثمین صدیقی نے کہا کہ وبائی مرض نے ہماری معاشرتی اور معاشی کمزوریوں کو بے نقاب کردیا ہے اور معاشرے میں وسیع پیمانے پر غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مذکورہ مسئلہ پر توجہ نہیں دی گئی تو کووڈ 19 سے جوڑا تناؤ پریشانی کا باعث بن سکتا ہے اور پھر یہ پریشانی بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔تحقیق کی پرنسپل تفتیش کار اور سی ایچ ایس ڈپارٹمنٹ کے ایک سینئر انسٹرکٹر مریم نے مزید بتایا کہ پہلے ہی اضطراب اور تناؤ میں مبتلا افراد مختلف بیماریوں جیسے ذہنی دباؤ اور ذہنی صحت سے متعلق دیگر امراض کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان نتائج سے معلوم چلتا ہے کہ ہم وبائی مرض کے دوران ذہنی صحت کے بحران سے دوچار ہیں۔علاوہ ازیں تحقیق میں واٹس ایپ کے ذریعہ افواہوں اور اضطراب یا تناؤ کے درمیان بھی ایک باہمی ربط پایا گیا۔تحقیق کے مطابق 10 میں سے 8 سے زیادہ جواب دہندگان سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال کررہے تھے۔محققین کے مطابق جواب دہندگان جنہوں نے اکثر خبروں کی جانچ پڑتال کی ان کو بھی زیادہ پریشانی اور تناؤ تھا۔غیر متعدی بیماریوں اور دماغی صحت کے شعبے کی سربراہ کی ڈاکٹر رومینہ اقبال نے کہا کہ ‘ وبائی بیماری کے دوران غلط فہمی، سازشی نظریات اور افواہوں سے ذہنی صحت کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…