پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

کورونا وائرس کے زیادہ درجہ حرارت پر ختم ہونے کی معلومات صحیح نہیں،اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا گرم پانی پینے اور سورج کی روشنی انفیکشن کو روک سکتی ہے، دعوئوں کی قلعی کھل گئی

datetime 18  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (اے این این )سوشل میڈیا پر کئی دنوں سے تواتر سے مختلف وائرل پوسٹوں میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ 27-26 ڈگری سیلسئس سے زائد درجہ حرارت میں کورونا وائرس مر جاتا ہے۔مبینہ طور پر اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی طرف سے اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ گرم پانی پینا اور سورج کی روشنی میں رہنا بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔

اس میسج میں آئس کریم اور کولڈ ڈرنک سے بھی پرہیز کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔ یونیسیف کی ہیلتھ اسپیشلسٹ ڈاکٹر کنوپریا سنگھل نے بتایا کہ یونیسیف کی جانب سے اس طرح کا میسج نہیں بھیجا گیا ہے۔جنوب ایشیائی خبررساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کے مطابق میڈیکل ماہرین نے 27۔26 ڈگری سیلسئس سے زائد درجہ حرارت میں وائرس ختم ہونے کا بھی کوئی دعوی نہیں کیا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس وائرس کی حساسیت کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ فی الحال یہ بے حد ضروری ہے کہ صرف قابل اعتماد ذرائع ابلاغ جیسے وزارت صحت کی آفیشل ویب سائٹ، عالمی ادارہ صحت یا یونیسف پر ہی یقین کیا جائے۔ فرضی اور گمراہ کن خبروں کو بغیر تصدیق کے سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کرنا چاہئے۔ساوتھ ایشین وائر کی رپورٹ کے مطابق، اب تک اس کی معلومات نہیں ہے کہ موسم یا درجہ حرارت کا سی او ویڈ 19 کے پھیلنے پر اثر ہے یا نہیں۔ پاکستان کی ایک ماہر پروفیسر عظمیٰ خورشید نے القمرآن لائن سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عام سردی میںزکام اور فلو جیسے وائرس ٹھنڈ کے موسم میں زیادہ پھیلتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے مہینوں میں ان وائرسوں سے متاثر نہیں ہوا جا سکتا۔ فی الحال یہ نہیں پتہ چل پایا ہے کہ موسم گرم ہونے پر نوول کورناوائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے گایا نہیں۔

نوول کورونا وائرس کے پھیلنے، اس کی سنجیدگی اور دیگر چیزوں کے بارے میں جاننے کے لئے ابھی بہت کچھ ہے اور اس معاملہ میں تحقیق جاری ہے۔اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ گرم پانی پینے اور سورج کی روشنی انفیکشن کو روک سکتی ہے۔پروفیسر عظمیٰ خورشید کا کہنا ہے کہ اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اب تک کورونا وائرس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ سردی، کھانسی جیسی سانس سے متعلقہ معمولی بیماریوں سے متاثرہ شخص کے قریبی رابطہ میں آنے پر کورونا وائرس پھیل سکتا ہے۔یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ لوگوں کو آئس کریم اور کولڈ ڈرنک نہیں پینی چاہئے۔لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ بھی گمراہ کن ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…