پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں منہ کے کینسر کی شرح میں ہولناک حد تک اضافہ اس کے پھیلنے کی پیچھے کیا وجوہات ہیں ؟عالمی ادارے صحت کے ہوشربا انکشافات، انتباہ جاری کر دیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(آن لائن)پاکستان میں منہ کے کینسرکی شرح ہولناک حد تک بڑھتی جاری ہے جب کہ پاکستان سمیت جنوبی ایشائی ممالک میں مردوں میں منہ کا کینسر سرفہرست ہے۔پاکستان میں منہ کا کینسر 43 فیصد ہے جس کی بنیادی وجہ گٹکا، چھالیہ، مین پوری، نسوارہے ،عالمی ادارے صحت کے مطابق کراچی میں منہ کے کینسر کی شرح 30 فیصد ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 80 لاکھ سے زائد افراد منہ، جبڑے، حلق سمیت

دیگرمختلف اقسام کے کینسرکے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یونین فار انٹرنیشنل کنٹرول(یو آئی سی سی)کے مطابق 2030 تک دنیاکی ڈھائی کروڑ سے زاہد آبادی کینسر کا شکار ہوجائے گی۔منہ کے کینسراور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق رفیع اور جناح اسپتال کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر رزاق ڈوگر نے ایکسپریس ٹربیون کاکہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ انسانی جینز میں رونما ہونے والے تغیرات ہیں جوکہ کینسر کا سبب بنتے ہیں۔پاکستان میں ہرسال منہ سمیت دیگرکینسر سے 14لاکھ سے زائد افرادکینسر جسے موذی مرض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ گٹکے میں شامل زہریلے اجزاء سے حلق ،پھیپڑوں،گردوں اور پروسٹیٹ کے سرطان میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔ پان، چھالیہ، گٹکے اورسگریٹ نوشی کے استعمال سے یہ مرض 14 سے 15 سال کے نوجوانوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔انھوں نے بتایا کہ گٹکے میں مختلف کیمیکلز اور خاص قسم کا نشہ ا?ور اشیا شامل کی جاتی ہے جسکی وجہ سے منہ میں (ّچھالے) السر بننا شروع ہوجاتا ہے جو بڑے زخم کی شکل بھی اختیارکرلیتے ہیں، سول اسپتال اونکالوجی یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر نورمحمد سومروکاکہنا تھا کہ جنوری2019سے وسط اکتوبرتک 900مریضوں کو منہ اورحلق کے کینسر میں معائنہ کیاجس میں زیادہ ترنوجوان کی تعداد شامل ہے۔آغا خان یونیورسٹی کے حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں بے دھواں تمباکوکے استعمال سے

پیدا ہونے والے خطرات کوکافی حد تک نظر انداز کیا جارہاہے۔اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں 300 ملین سے زائد افراد کسی نہ کسی قسم کا دھواں تمباکو استعمال کرتے ہیں اور ان میں سے 85 فیصد افراد جنوبی ایشیائی ممالک مثلاً پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں ہیں۔اس وقت کراچی میں گٹکے کی کم از کم 50 سے زائد چھوٹی بڑی فیکٹریاں اورکارخانے قائم ہیں جو روزانہ 5 لاکھ ٹن سے زیادہ گٹکا تیارکرتی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…