جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

موٹاپا غیر صحت مندانہ طرز زندگی جوڑٖوں اور پٹھوں کے امراض کا سبب بن رہا ہے : ملکی و غیرملکی ماہرین

datetime 15  مارچ‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) ملکی اور غیر ملکی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ موٹاپا غیر صحت مندانہ طرز زندگی ، غیر متوازن غذا کا استعمال ، جوڑٖوں اور پٹھوں کے امراض کا سبب بن رہا ہے ، دن کا بہت زیادہ وقت بند کمروں میں گزارنا ، پھلوں اور سبزیوں سے اجتناب ، بچوں اور نوجوانوں کا زیادہ تر وقت موبائل اور ٹی وی اسکرینز کے سامنے بیٹھنا ہڈیوں ، جوڑوں اور پٹھوں کے امراض کا ایک اہم سبب ہے۔

پاکستان کی 15سے 20فیصد آبادی ان امراض کا شکار ہے مگر یہاں ماہر رہیماٹولوجسٹس کی شدید کمی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان سوسائٹی آف رہیماٹولوجی کی 23ویں بین الاقوامی کانفرنس کے پہلے روز آگہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں یورپی ، امریکی اور مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک سے درجنوں غیر ملکی اور پاکستان کے مختلف شہروں سے ماہرین شریک ہیں ، کانفرنس کا باقاعدہ آغاز جمعہ کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کریں گے ، عوامی آگاہی کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے معروف برطانوی ماہر ڈاکٹر ٹیرنس گبسن نے کہا کہ پاکستانیوں کی ایم بہت بڑی تعداد اس وقت گھٹنوں کے درد اور مسائل کا شکار ہے ، جس کی ایک بڑی وجہ ان کا موٹاپا اور ورزش نہ کرنا ہے ، ڈاکٹر ٹیرنس کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کو اپنی عادتیں بدلنی ہوں گی ، ورزش کو اپنانا ہوگا اور صحت مند طرز زندگی اختیار کرنا ہوگا تاکہ وہ جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے نجات حاصل کر سکیں ،سامعین کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹیم سیل ٹیکنالوجی اس وقت پٹھوں اور جوڑوں کے امراض کا علاج نہیں ہے ، گھٹنے کے درد کی شکایت پر اگر ڈاکٹر تجویز کرے تو گھٹنے کے جوڑ کو تبدیل کروا لینا چاہیے ، انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ ازخود ادویات کیا ستعمال سے اجتناب برتیں ، کمر ، جوڑوں ، گھٹنوں اور پاؤں کے امراض کے لیے ماہرین سے رجوع کریں ،نقائی میڈیکل یونیورسٹی سے وابستہ معروف رہیماٹولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر شکیل بیگ کا کہنا تھا کہ جوڑوں اور پٹھوں کے 70فیصد امراض کی تشخیص مریض سے بات کرکے اور ان کا معائنہ کرکے ہی ہوسکتی ہے اور اس کے بعد اگر ڈاکٹر مناسب سمجھیں تو مریض کے مزید ٹیسٹ کروائے جا سکتے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اپنے امراض

کے سلسلے میں اتائیوں اور ادھر اُدھر کے لوگوں کی باتیں سننے کے بہ جائے ماہر ڈاکٹروں سے رابطہ کرنا چاہیے ، اسٹیورائڈز بہت اہم دوا ہے جسے ماہرین چند مخصوص حالتوں میں مریضوں کو تجویز کرتے ہیں جس سے انہیں آفاقہ ہوتا ہے ، انہوں نے بھی موٹاپے ، بسیار خوری، ورزش نہ کرنے اور غیر صحت مندانہ غذا کو جوڑوں اور پٹھوں کی بیماریوں کا اہم سبب قرار دیا۔

معروف رہیماٹولوجسٹ ڈاکٹر صالحہ اسحاق نے کہا کہ دھوپ میں نہ نکلنے اور زیادہ تر وقت بند کمرے میں گزارنے سے وٹامن ڈی کی کمی ہوجاتی ہے ، یہ وٹامن غذائی اشیاء سے بہت کم مقدار میں حاصل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں جوڑوں ، پٹھوں میں درد ، کمزوری کی شکایات ہوتی ہیں ، لیکن پٹھوں اور جوڑوں میں ہونے والی ہر بیماری کا سبب وٹامن ڈی کی کمی نہیں ہے ، صحت مند افراد کو دن بھر میں اپنے وقت کا کچھ حصہ دھوپ میں ضرور گزارنا چاہیے۔ڈاکٹر ثمینہ غزنوی نے ہڈیوں کے بھربھرے

پن کے بارے میں بتایا کہ اس مرض میں ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں اور زرا سے چوٹ لگنے سے انہیں فریکچر اور ہڈی ٹوٹنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ، اس مرض میں ریڑھ، کولہے اور کلائی کی ہڈیاں زیادہ متاثر ہوتی ہیں ،جس کی بنیادی وجہ جسم میں کیلشیم کی کمی ہے ۔سیمینار سے دیگر ماہرین جن میں امریکہ سے آئے ہوئے ڈاکٹر عاصم خان،ڈاکٹر طاہرہ پروین ، پمز اسلام آباد کے ڈاکٹر وجاہت، لیاقت نیشنل اسپتال کے ڈاکٹر عامر ریاض اور ڈاکٹر لبنیٰ بیگ کے علاوہ دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…