منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

صرف سانس کے ذریعے 17 بیماریوں کی کم خرچ شناخت

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) تل ابیب ، ہماری سانس میں کئی امراض کے سالمات پائے جاتے ہیں جنہیں حساس آلات کے ذریعے شناخت کیا جاسکتا ہے تاہم امریکی اور اسرائیلی ماہرین نے جداگانہ طور پر ایسے آلات تیار کیے ہیں جو صرف سانس کے ذریعے 17 مختلف امراض کی شناخت کرسکتے ہیں۔ اسرائیلی سائنسدانوں نے ایک سادہ آلہ تیار

کیا ہے جو کسی مرض کے شکار انسان کے سانس میں چھپے کیمیکلز شناخت کرسکتا ہے جب کہ دوسری طرف امریکی ماہرین نے ملاوی میں ملیریا کو سانس کے ذریعے بھانپنے کے ایک نظام کی آزمائش شروع کردی ہے۔ ابھی یہ سانس کے ذریعے مرض شناخت کرنے کی ابتدا ہے لیکن بہت جلد سانس سے مرض بھانپنے والے آلات عام دستیاب ہوں گے۔ آلے کی قیمت 100 سے 200 ڈالر یعنی 10 سے 20 ہزار ڈالر تک ہوسکتی ہے لیکن ایک آلے کو ہزاروں مرتبہ، بار بار استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ دونوں نظام صحتمند شخص اور کسی مریض کی سانس کو شناخت کرکے اس کا موازنہ صحت مند سانس کی کیمیائی ترکیب سے کرتے ہیں اور کسی بیماری کی اطلاع دیتے ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی ایجاد فوری طور دستیاب نہیں لیکن ماہرین پُرامید ہیں کہ بہت جلد یہ عام دستیاب ہوگی اور مریضوں میں فوری اور کسی تکلیف کے بغیر مرض کی موجودگی یا عدم موجودگی کی تصدیق کرسکے گی۔ ہماری سانس میں بہت سے امراض کی نشانیاں ہوتی ہیں اور اسی بنا پر تربیت یافتہ کتے کینسر سے لے کر مرگی تک شناخت کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسرائیلی ماہرین نے جو آلہ تیار کیا ہے اسے ’نے نوز‘ کا نام دیا ہے جس کے معنی ’نینوذرات والی ناک‘ کے ہیں جو سانس میں چھپی ایک درجن سے زائد بیماریاں شناخت کرسکتا ہے جن میں پارکنسن، کینسر اور دیگر امراض شامل ہیں جبکہ اس آلے کی درستگی 86 فیصد تک نوٹ کی گئی

ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی آف واشنگٹن کی پروفیسر اوڈرے اوڈم جان نے ایسی ہی ایک ٹیکنالوجی سے ملیریا شناخت کرنے کا کام لیا ہے جب کہ اس کی درستگی کا معیار 83 فیصد تک بتایا جارہا ہے۔ روایتی طور پر خون کے ٹیسٹ 90 سے 95 فیصد درستگی سے ملیریا شناخت کرلیتے ہیں۔ اس لحاظ سے سانس کا آلہ بہت بہتر اور مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر اوڈرے کی ٹیم اسے تجرباتی طور پر افریقہ کے ایک غریب ملک ملاوی میں آزما رہی ہے۔

اس میں ایک حساس اسپیکٹرومیٹر لگا ہے جو سانس میں موجود کیمیکلز شناخت کرکے مرض کا پتا لگالیتا ہے۔ ڈاکٹر اوڈرے کے مطابق ملیریا کی بعض اقسام خون کے ٹیسٹ میں نہیں آپاتیں کیونکہ مریضوں میں اس کا پروٹین مختلف ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب غریب افریقی ممالک میں اکثر خون کے ذریعے ملیریا کی شناخت کا انفراسٹرکچر موجود نہیں جس میں تربیت یافتہ عملہ، خون رکھنے کےلیے ریفریجریٹر اور جدید خردبین وغیرہ شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…