منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

اگر آپ ناخن چبانے کے عادی ہیں تو یہ خبر آپ کیلئے ہی ہے

datetime 18  جولائی  2017 |

اسلام آباد (مانیٹر نگ ڈیسک)آپ نے دیکھا ہوگا کہ متعدد افراد ناخن چبانے کے عادی ہوتے ہیں اور اسے کوئی اچھی عادت بھی نہیں سمجھا جاتا بلکہ ایک بدترین قسم کی لت قرار دیا جاتا ہے۔ سماجی اور ممکنہ طبی نقصانات سے قطع نظر دنیا بھر میں 30 فیصد افراد اس عادت کا شکار ہوتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں مختلف طبی مسائل جیسے انفیکشن اور دانتوں کی کمزوری کا خطرہ بھی ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے اس عادت کا شکار ہونے کے بعد اس پر قابو پانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ تاہم یہ عادت کسی فرد کی شخصیت کے راز بھی فاش کرسکتی ہے۔یہ دعویٰ ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ تحقیق کے مطابق اس عادت میں مبتلا ہونا اس بات کی بھی نشانی ہے کہ وہ شخص کمالیت پسند ہے۔ اس تحقیق کے دوران 48 رضاکاروں کا جائزہ لیا گیا جن میں سے 50 فیصد ناخن چبانے کے عادی تھے۔نتائج سے معلوم ہوا کہ اس عادت کے شکار افراد ادارہ جاتی کمالیت پسندی کی خوبی رکھتے ہیں، بہت زیادہ منصوبہ بندی کرنے اور جلد ذہنی انتشار کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ تجربے کے دوران ان رضاکاروں کو ایسی صورتحال سے گزارا گیا جو انہیں تناؤ، فرسٹریشن، بیزاری اور سکون کا احساس دلائے۔محققین کا کہنا تھا کہ تناؤ، فرسٹریشن اور بیزاری لوگوں کے اندر اعصابی بے چینی پیدا کی اور بیشتر ناخن چبانے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رویے سے اظہار ہوتا ہے کہ ایسے لوگ سکون نہیں رہ پاتے اور کاموں کو معمول کی رفتار سے سرانجام دینا چاہتے ہیں، مگر ایسا نہ ہونے پر فرسٹریشن، بے چینی اور عدم اطمینان کا شکار ہوجاتے ہیں۔اور اس طرح کے منفی جذبات پر قابو پانے کے لیے وہ ناخن چبانے لگتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…