پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

’’سائنسی ترقی اپنی انتہا کو پہنچ گئی ‘‘

datetime 14  جولائی  2017 |

واشنگٹن(این این آئی)ڈی این اے ویسے تو جینیاتی معلومات کی ترسیل کا کام کرتا ہے لیکن اب سائنس دانوں نے اسے ڈیجیٹل معلومات ذخیرہ کرنے کے لیے بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔میڈیارپوررٹس کے مطابق سائنس دانوں نے کرسپر نامی ایک ٹول استعمال کر کے بیکٹیریا کے ڈی این اے کے اندر پانچ تصاویر پر مبنی ایک ویڈیو ڈال دی۔

بعد میں انھوں نے اس ڈی این اے کو سیکوئنس کر کے اس کے اندر سے ویڈیو نکال لی۔ اس سے ثابت ہو گیا کہ بیکٹیریا نے واقعی توقعات کے مطابق ڈیٹا اپنے ڈی این اے کے اندر شامل کر دیا تھا۔یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ۔امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایک انسانی ہاتھ کی تصویر اور ایک گھوڑے کی ویڈیو لی اور اسے بیکٹریا کے نیوکلیوٹائیڈز میں تبدیل کر دیا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ایسا کوڈ تیار کیا جو ویڈیو کے ہر انفرادی پکسل کی نمائندگی کرتا تھا۔سائنس دانوں نے اس کے بعد کرسپر ایڈیٹنگ ٹول کی مدد سے دو پروٹین مالیکیول تیار کیے اور ان کے ذریعے اس کوڈ کو ای کولائی بیکٹیریا کے جینوم میں داخل کر دیا۔ویڈیو کا ہر فریم منتقل کرنے میں پانچ دن لگے۔یہ ڈیٹا صرف ایک بیکٹریا تک محدود نہیں تھا بلکہ اسے مختلف جراثیم کے ڈی این اے میں شامل کیا گیا تھا۔ تحقیق کے شریک مصنف سیتھ شپمین کہتے ہیں: ‘یہ معلومات صرف ایک خلیے تک محدود نہیں تھیں، اس لیے ہر خلیہ ویڈیو کے صرف چند حصے ہی دیکھ سکتا تھا۔

اس لیے ہمیں مختلف زندہ ٹکڑوں سے جوڑ کر مکمل فلم بنانا پڑی۔یہ ویڈیو حاصل کرنے کے لیے تحقیق کاروں نے بیکٹریا کا ڈی این اے ‘پڑھا’ اور اس میں تصاویر حاصل کر لیں۔اس کام میں ٹیم کو 90 فیصد درستگی حاصل ہوئی۔ شپمین نے کہاکہ ہمیں اس بات کی بہت خوشی ہے۔سائنس دانوں کو امید ہے کہ وہ اس تکنیک کی مدد سے بالآخر ‘مالیکیولر ریکارڈر’ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔تمام جانداروں کے ڈی این اے میں بیتحاشا معلومات ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ اس صلاحیت کو تصاویر اور وڈیو محفوظ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…