منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے اہم شہر میں دماغ کھا جانے والا جراثیم منظر عام پر

datetime 9  جولائی  2017 |

کراچی(این این آئی)کراچی میں دماغ کھاجانے والا جرثومہ نگلیریا پھر سر اٹھانے لگا، گلبرگ اور کے ڈی اے اسکیم کے پانی کے نمونوں میں جان لیوا جرثومہ نگلیریا پایا گیا ہے۔انسداد نگلیریا کمیٹی کے مطابق ان علاقوں کے پانی میں آنتوں کی سوزش، جلدی امراض اور آنکھوں کی سوزش کے جراثیم بھی پائے گئے ۔

انسداد نگلیریا کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ متعلقہ علاقوں سے حاصل کیے گئے پانی کے نمونوں میں نہ صرف کلورین کی مقدار غیر تسلی بخش پائی گئی ہے بلکہ پانی میں دیگر جان لیوا بیماریوں کے جراثیم بھی موجود ہیں ۔نگلیریا کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق گلبرگ اور کے ڈی اے اسکیم کے پانی میں کلورین نہیں اور سیوریج کا پانی بھی شامل ہے، ان علاقوں کا پانی پینے کے قابل ہی نہیں ہے۔انسداد نیگلیریا کمیٹی کے فوکل پرسن ڈاکٹر ظفر مہدی کے مطابق پانی میں ڈائریا، آنتوں کا انفیکشن ،آنکھوں میں انفیکشن اور جلدی امراض کے جرثومے شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پانی میں کلورین موجود نہیں جبکہ اس میں سیوریج کا پانی بھی شامل ہے اور یہ پانی پینے کے قابل بھی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پانی کی لائنوں کو سیوریج کی لائینوں سے الگ کرنے کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ ماہرین صحت کے مطابق نیگلیریا فوولری یعنی دماغ کھاجانے والا جرثومہ پانی میں کلورین کی مقررہ مقدار پوری نہ ہونے پر پرورش پاتا ہے اور ناک کے ذریعے انسانی دماغ تک پہنچ جاتا ہے جس سے 100فیصد موت واقع ہو جاتی ہے۔

اگر پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار پوری کر دی جائے تو اس سے 100فیصد بچا جاسکتا ہے ۔ماہرین صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ پانی میں کلورین کی مقدادکو خود ہی پورا کر لیا جائے اور پانی کے ٹینک میں کلورین ملائی جائے جبکہ پانی ابال کر پیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…